سرینگر: وادی کشمیر میں وسیع پیمانے پر برف وباراں کے بعد موسم میں بتدریج بہتری واقع ہو رہی ہے اوردریں اثنا محکمہ موسمیات نے ماہ رواں کے اختتام تک موسم خشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
متعلقہ محکمہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی میں ۲۹جنوری سے۳۱جنوری کی شام تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ بعد میں یکم اور۲فروری کو موسم عام طور پر ابر آلود رہنے کے ساتھ بیشتر مقامات پر ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری یا بارش ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وادی میں بعد ازاں۳سے۶فروری تک موسم جزوی ابر آلود مگر عام طور پر خشک رہنے کا امکان ہے۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں مسافروں اور ٹرانسپورٹروں سے کہا ہے کہ وہ سڑکوں اور شاہراہوں کے متعلق تازہ جانکاری حاصل کرنے کے لئے متعلقہ ٹریفک حکام کی طرف رجوع کریں اور انتظامیہ کی طرف سے جاری مشوروں پر عمل کریں۔انہوں نے پہاڑی علاقوں کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ان علاقوں میں جانے سے گریز کریں جہاں برفانی تودے یا لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات رہتے ہیں۔
دریں اثنا سری نگر میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ۲سینٹی میٹر برف جبکہ 9.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 8.9 سینٹی میٹر تازہ برف جبکہ 11.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں اس دوران 23.4 سینٹی میٹر تازہ برف جبکہ 22.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
شمالی ضلع کپوارہ میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 5.0 سینٹی میٹر تازہ برف جبکہ6.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں اس دوران21.0 ملی میٹر تازہ برف جبکہ 19.0 ڈگری ملی میٹر بارش ریکارد ہوئی ہے۔
وادی میں مطلع ابر آلود رہنے سے بیشتر علاقوں میں شبانہ درجہ حرارت میں قدرے بہتری واقع ہوئی ہے۔موسم گرما کے دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت 0.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
وادی کے مشہور سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی9.8 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی6.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
شمالی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی0.7 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قاضی گنڈ میں شبانہ درجہ حرارت منفی4.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وادی میں سخت سردیوں اور بھاری برف باری کے لئے مشہور چالیس روزہ چلہ کلاں کے آخری دن چل رہے ہیں۔ یہ چلہ 21 دسمبر سے شروع ہوکر 31 جنوری کو اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔
ادھرنا موافق موسمی صورتحال اور برف باری کی وجہ سے تمام پروازیں منسوخ رہنے کے ایک دن بعد بدھ کو سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آنے اور جانے والی پروازیں دوبارہ شروع ہوئیں۔
حکام نے بدھ کی صبح بتایا کہ سری نگر ہوائی اڈے پر آنے اور جانے والی پروازیں بحال ہوئیں۔
قبل ازیں سری نگر ائیر پورٹ حکام نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا’موسمی حالات میں بہتری کے بعد رن وے، ٹیکسی وے اور اپیرن کو صاف کر دیا گیا اور اب یہ آپریشن کے لئے تیار ہے تاہم دھند/گرد آلود فضا کے باعث فی الوقت حد نگاہ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایئر لائنز اور ایئر پورٹ حکام صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور پروازوں کی بحالی جلد متوقع ہے۔
پوسٹ میں کہا گیا کہ ابتدائی مرحلے میں آپریشن کے دوران تاخیر کا امکان ہے۔حکام نے مسافروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تازہ ترین معلومات کے لئے اپنی متعلقہ ایئر لائنز سے رابطے میں رہین اور سرکاری ذرائع ابلاغ/ اعلانات پر عمل کریں۔
دریں اثنا وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ پر بدھ کے روز ٹریفک کی نقل و حمل کو جزوی طور پر بحال کر دیا گیا اور پہلے دونوں طرف سے مسافر بر دار گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اس شاہراہ کو گذشتہ روز برف باری کے باعث بند کر دیا گیا تھا۔
ٹریفک حکام نے بتایا کہ سری نگر – جموں قومی شاہراہ پر مسافر بر دار گاڑیوں کی دو طرفہ نقل وحمل بحال کر دی گئی ہے۔انہوں نے مسافروں سے لین ڈسپلن پر عمل کرنے اور اوور ٹیکنگ کرنے سے اجتناب کرنے کی اپیل کی ہے۔
لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں بلکہ شاہراہوں کی تازہ صورتحال معلوم کرنے کے لئے ٹریفک پولیس کے ٹویٹر ہینڈل، فیس بک پیج اور متعلقہ ٹریفک کنٹرول یونٹوں کی طرف رجوع کریں۔
ادھر جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے پونچھ اور راجوری اضلاع کے ساتھ جوڑنے والے مغل روڈ اور وادی کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر لیہہ شاہراہ پر برف جمع ہونے کی وجہ سے گذشتہ۶دنوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بند ہے۔










