’ میری حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کے ہر عمل کا مضبوط اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا‘
سرینگر: صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے بدھ کے روز کہا کہ آپریشن سندور کے ذریعے دنیا نے بھارتی مسلح افواج کی بہادری اور جرأت کا مشاہدہ کیا، جب بھارت نے اپنی ہی صلاحیتوں کے بل بوتے پر دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے کسی بھی عمل کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس کے ساتھ ہی بجٹ اجلاس کا آغاز ہوا، صدر مرمو نے کہا’’بھارت نے ثابت کیا ہے کہ طاقت کو ذمہ داری اور دانائی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپریشن سندور کے ذریعے دنیا نے بھارتی مسلح افواج کی بہادری اور حوصلہ دیکھا ہے‘‘۔
صدر مرمو نے کہا’’ہماری قوم نے اپنی ہی صلاحیتوں کے سہارے دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کیا۔ میری حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کے ہر عمل کا مضبوط اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا‘‘۔
صدر کے اس بیان پر وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر ارکانِ پارلیمنٹ نے میزیں بجا کر تائید کی۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھی بھارت کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا حصہ ہے۔انہوں نے مزید کہا’’ہم قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشن سدرشن چکر پر بھی کام کر رہے ہیں‘‘ اور یہ کہ سکیورٹی فورسز نے ماؤ نواز دہشت گردی کے خلاف بھی فیصلہ کن کارروائی کی ہے۔
آپریشن سندور کے بعد، صدر کے مطابق، بھارتی دفاعی پلیٹ فارمز پر عالمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
صدر مرمو نے کہا کہ ان کی حکومت ملک میں سماجی انصاف کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کی تیسری مدت میں غریبوں کو مزید بااختیار بنانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے اور اب تقریباً۹۵کروڑ شہری سماجی تحفظ کی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ان کاکہنا تھا’’میری حکومت حقیقی سماجی انصاف کے لیے پُرعزم ہے اور گزشتہ دس برسوں میں۲۵کروڑ بھارتی غربت سے باہر نکلے ہیں‘‘۔
صدر نے کہا کہ حکومت بدعنوانی اور گھوٹالوں پر قابو پانے اور عوامی وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانے میں کامیاب رہی ہے۔انہوں نے کہا’’اس صدی کے پہلے۲۵ برسوں کا اختتام بھارت کے لیے کئی کامیابیوں، قابلِ فخر کارناموں اور غیر معمولی تجربات سے بھرا رہا ہے۔ گزشتہ۱۰ تا۱۱ برسوں میں بھارت نے ہر شعبے میں اپنی بنیاد مضبوط کی ہے‘‘۔
صدر کے خطاب میں وکست بھارت روزگار اور آجیویکا مشن (دیہی) اسکیم کا ذکر آتے ہی حزبِ اختلاف کی نشستوں سے شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔صدر مرمو نے کہا کہ وی بی جی رام جی پہل کے تحت۱۲۵دن کے روزگار کی ضمانت دی جائے گی، بدعنوانی اور لیکیجز کو روکا جائے گا اور دیہی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔
اس پر حزبِ اختلاف کے ارکان نے اس کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے، جبکہ حکمراں اتحاد کے ارکان نے میزیں بجا کر حمایت کی۔حزبِ اختلاف کے ’واپس لو‘ کے نعروں کے باعث صدر کو مختصر وقفہ لینا پڑا۔ یہ نعرے اس قانون کے خلاف تھے جس نے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کی جگہ لی ہے۔
حزبِ اختلاف جماعتیں وہ بی جی رام جی ایکٹ کی واپسی اور منریگا کو اس کی اصل شکل میں، یعنی حقِ روزگار اور پنچایتوں کے اختیار کے ساتھ بحال کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ نیا قانون دیہی روزگار کی ضمانت کو مزید مضبوط بنائے گا۔
صدر جمہوریہ نے مزید کہا کہ عالمی عدم استحکام اور عالمی معیشت کو درپیش بحران کے باوجود ہندوستان اپنی متوازن خارجہ پالیسی اور دور اندیش فکر کی بدولت بہ سرعت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
صدر مرمو نےکہا کہ دنیا اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور طویل عرصے سے قائم عالمی توازنات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے عالمی استحکام اور عالمی معیشت کو بحران میں ڈال رکھا ہے لیکن ان تمام حالات کے باوجود ہندوستان تیز رفتاری سے ترقی کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اس کامیابی کے پیچھے حکومت کی متوازن خارجہ پالیسی اور دور اندیش سوچ کا بڑا کردار ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ موجودہ پیچیدہ عالمی حالات میں ہندوستان دنیا میں ایک پُل (سیتو) کا کردار ادا کر رہا ہے جس کے باعث جنگ میں مصروف ممالک بھی اہم امور پر ہندوستان پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توازن، غیر جانب داری اور انسانی نقطۂ نظر کو ترجیح دیتے ہوئے بھی ہندوستان نے ’انڈیا فرسٹ‘ کے عزم کو مضبوطی سے قائم رکھا ہے۔
صدر مرمو نے کہا کہ ہندوستان نے بین الاقوامی فورمز پر ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مؤثر انداز میں بلند کیا ہے اور اپنی عالمی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔انہوں نے کہا’’ہندوستان نے پوری دنیا میں گلوبل ساؤتھ کی آواز کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا ہے۔ افریقہ اور لیٹن امریکہ سمیت مختلف خطوں میں نئی شراکت داریاں قائم کی گئی ہیں اور پرانے تعلقات کو مزید تقویت دی گئی ہے۔ ہندوستان نے بِمسٹیک، جی۔۲۰‘ برکس، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر بھی اپنی موجودگی کو مسلسل مضبوط کیا ہے‘‘۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ عالمی سیاست اور تعاون کا حتمی مقصد انسانیت کی خدمت ہونا چاہیے اور ہندوستان نے اپنے اقدامات کے ذریعے اس کی مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’لیٹن امریکہ، جنوب مشرقی ایشیا، بحرالکاہل کے جزائر اور پڑوسی ممالک میں بحران کے وقت ہندوستان نے آگے بڑھ کر ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔ سری لنکا میں سائیکلون دِتوا کے دوران حکومت نے ’آپریشن ساگر بندھو‘ شروع کیا۔ اسی طرح میانمار اور افغانستان میں بھی سب سے پہلے ہندوستان نے امداد پہنچائی‘‘۔
صدر مرمو نے کہا کہ ہندوستان اپنی وسیع عالمی ذمہ داریوں اور مثبت و سرگرم کردار کے ساتھ کئی بین الاقوامی تنظیموں میں اہم فرائض انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں برس برکس کی صدارت ہندوستان کے پاس ہے اور دنیا اسے امید بھری نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کے مواقع اور چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان عالمی برادری کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے گلوبل اے آئی امپیکٹ سمٹ کے انعقاد کی تیاری بھی کر رہا ہے، جو دنیا کے لیے ایک اہم اور فیصلہ کن تقریب ثابت ہوگی۔










