بھارت آج اپنا 77واں یومِ جمہوریہ منا رہا ہے۔ یہ دن صرف آئین کے نفاذ یا سرکاری تقاریب تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے قومی عہد کی یاد دہانی ہے جس میں جمہوریت، آزادی، سلامتی اور شہری وقار مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے تناظر میں دیکھا جائے تو یومِ جمہوریہ کی یہ مناسبت محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک طویل، تکلیف دہ مگر بالآخر امید افزا سفر کی علامت بن چکی ہے۔
ایک وقت تھا جب وادی میں یومِ جمہوریہ اور یومِ آزادی خوف، خاموشی اور غیر اعلانیہ پابندیوں کے دن تصور کیے جاتے تھے۔ پاکستان کی اعانت یافتہ دہشت گرد تنظیمیں اور نام نہاد علیحدگی پسند جماعتیں ان قومی ایام پر ہڑتالوں کی کالیں دے کر عوام کو گھروں میں محصور کر دیتی تھیں۔ بازار بند، سڑکیں سنسان اور فضا میں دھمکیوں کا راج ہوتا تھا۔ جو لوگ دل سے ان تقریبات میں شریک ہونا چاہتے تھے، وہ بھی خوف کے سائے میں ایسا کرنے سے قاصر رہتے تھے۔ وطن سے وابستگی کا اظہار جرم بنا دیا گیا تھا۔
کشمیری عوام نے یہ ماحول تیس برس سے زیادہ عرصے تک جھیلا۔ ایک پوری نسل خوف، تشدد اور غیر یقینی حالات میں پلی بڑھی۔ مگر آج،۷۷ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر، زمینی حقیقت یکسر مختلف ہے۔ اب اسکولوں، کالجوں، سرکاری اداروں اور عوامی مقامات پر ترنگا لہرایا جاتا ہے، تقاریب منعقد ہوتی ہیں اور عام کشمیری بغیر خوف کے ان میں شریک ہوتا ہے۔ یہ تبدیلی محض وقتی یا نمائشی نہیں بلکہ ایک گہری سماجی اور نفسیاتی تبدیلی کی علامت ہے۔
یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ اس تبدیلی کے پیچھے مرکزی حکومت کی دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے خلاف واضح اور آہنی پالیسی کارفرما رہی ہے۔ ریاستی رِٹ کو بحال کرنے، تشدد کے نیٹ ورک کو توڑنے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے سخت فیصلے کیے گئے۔ نتیجتاً آج کشمیر میں عام شہری نسبتاً پُرسکون زندگی گزار رہا ہے، کاروبار بحال ہو رہے ہیں، سیاحت لوٹ رہی ہے اور تعلیمی ادارے بلا خوف کام کر رہے ہیں۔
لیکن یہ سب کچھ بغیر قیمت کے حاصل نہیں ہوا۔
یہ قیمت جموں و کشمیر پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں کے ان جوانوں نے ادا کی ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کیں، معذور ہوئے، یا زندگی بھر کے زخم اپنے ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ ان قربانیوں کے بغیر آج کا پُرسکون کشمیر ممکن نہیں تھا۔
اسی حقیقت کا اعتراف اس وقت ایک باوقار انداز میں سامنے آیا جب۷۷ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر۵۲ جموں و کشمیر پولیس افسران اور اہلکاروں کو بہادری اور خدمات کے اعزازات سے نوازا گیا۔ ان میں۳۳؍ اہلکاروں کو میڈل فار گیلنٹری‘۱۷کو میڈل فار میریٹوریس سروس اور دو سینئر افسران کو صدرِ جمہوریہ کا میڈل برائے امتیازی خدمات عطا کیا گیا۔
یہ اعزازات محض تمغے نہیں، بلکہ اس خاموش جدوجہد کی سرکاری توثیق ہیں جو برسوں تک اندھیرے میں لڑی گئی۔ یہ ان ماؤں، بیویوں اور بچوں کے صبر کا اعتراف بھی ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو قوم کے تحفظ کے لیے قربان کیا۔ خاص طور پر جموں و کشمیر پولیس کا کردار اس لیے بھی منفرد ہے کہ وہ اسی سماج سے نکلے ہوئے لوگ ہیں جسے دہشت گردی نے یرغمال بنایا تھا، اور اسی سماج کے تحفظ کے لیے انہوں نے سب سے آگے کھڑے ہو کر مقابلہ کیا۔
یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ آج کشمیری نوجوان قومی دنوں میں شرکت کو محض ایک سرکاری رسم نہیں بلکہ اپنے مستقبل سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے۔ یہ وہ نفسیاتی تبدیلی ہے جو کسی حکم، نوٹیفکیشن یا مہم سے نہیں آتی، بلکہ زمین پر حالات کے بہتر ہونے سے جنم لیتی ہے۔ جب خوف کم ہوتا ہے، تب ہی اعتماد بحال ہوتا ہے۔
یہ بڑھتی ہوئی عوامی شرکت محض سکیورٹی کی موجودگی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک بدلتے ہوئے سماجی رویے کی عکاس ہے۔ آج کا کشمیری شہری اپنے حقوق، فرائض اور مستقبل کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ باخبر اور پُراعتماد دکھائی دیتا ہے۔ ترنگا لہرانا یا قومی ترانہ سننا اب کسی دباؤ یا مجبوری کے تحت نہیں بلکہ ایک شعوری انتخاب کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ریاست امن و امان قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو عوامی سوچ خود بخود مثبت سمت اختیار کرتی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کے جن اہلکاروں کو اعزازات سے نوازا گیا، وہ صرف ماضی کی قربانیوں کی علامت نہیں بلکہ آنے والے وقت کے لیے ایک مثال بھی ہیں۔ ان اعزازات کا پیغام واضح ہے کہ قوم اپنے محافظوں کو فراموش نہیں کرتی۔ یہی احساسِ اعتراف فورسز کے حوصلے بلند کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو بھی قانون کی پاسداری اور قومی خدمت کی طرف راغب کرتا ہے۔ یومِ جمہوریہ کا یہی اصل حاصل ہے کہ ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کو زیادہ محفوظ، پُرامن اور باوقار بنایا جائے۔
یومِ جمہوریہ کا اصل پیغام بھی یہی ہے:آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلاف، مگر تشدد کے بغیر۔ کشمیر میں آج حالات اس سمت میں بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں مسائل کا حل بندوق کے بجائے مکالمے، ترقی اور قانون کے ذریعے تلاش کیا جا رہا ہے۔
تاہم، یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ یہ سفر مکمل نہیں ہوا۔ دہشت گردی کی باقیات، سرحد پار سے مداخلت اور اندرونی چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ آج ریاست اور سماج دونوں اس خطرے کو پہچانتے ہیں اور اس کے خلاف متحد نظر آتے ہیں۔
۷۷واں یومِ جمہوریہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم ان قربانیوں کو یاد رکھیں، ان کی قدر کریں اور اس امن کو مضبوط کریں جو بڑی مشکل سے حاصل ہوا ہے۔ جموں و کشمیر پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ملنے والے اعزازات اسی قومی عزم کی علامت ہیں۔
کشمیر میں یومِ جمہوریہ اب محض ایک تاریخ نہیں رہا، بلکہ اس بات کی گواہی بن چکا ہے کہ خوف کو شکست دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ ریاست مضبوط ہو اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔یہی اس دن کا اصل پیغام ہے، اور یہی۷۷ویں یومِ جمہوریہ کی سب سے بڑی کامیابی بھی۔





