جموں و کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں قدرتی حسن، بلند پہاڑ، تنگ و پیچیدہ سڑکیں اور بدلتا موسم ایک ساتھ موجود ہیں۔ یہی جغرافیائی حقیقتیں یہاں کی شاہراہوں کو منفرد بھی بناتی ہیں اور خطرناک بھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر حادثہ محض قدرت، موسم یا ڈرائیور کی غلطی کا نتیجہ ہے؟ یا اس کے پیچھے ایک ایسا نظامی فیلئر بھی ہے جسے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
ڈوڈہ ضلع میں پیش آنے والا حالیہ المناک سڑک حادثہ، جس میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے لیے جانے والی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی گہری کھائی میں جا گری اور دس قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں، صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک کڑا سوال ہے—ہمارے نظام، ہماری ترجیحات اور ہماری ذمہ داریوں پر۔
یہ سانحہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب سرکاری اعداد و شمار خود اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ جون۲۰۲۲ کے بعد سے جموں و کشمیر میں۲۰ہزار سے زائد سڑک حادثات میں تقریباً۳۷۰۰؍افراد جاں بحق اور۲۹ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد محض نمبرز نہیں، بلکہ برباد خاندانوں، اجڑی ہوئی امیدوں اور ناقابلِ تلافی نقصانات کی داستان ہیں۔
ڈوڈہ حادثہ اس لیے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے کہ اس میں وہ فوجی جوان جان سے گئے جو روزانہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر قوم کی حفاظت کرتے ہیں۔۹۰۰۰فٹ کی بلندی پر واقع کھنی ٹاپ جیسے حساس اور خطرناک راستوں پر اگر ایک جدید، بارودی سرنگوں سے محفوظ گاڑی بھی محفوظ نہیں، تو عام شہریوں کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ گاڑی کیوں پھسلی، سوال یہ ہے کہ کیا ایسے راستوں پر نقل و حرکت کے لیے مناسب انفراسٹرکچر، حفاظتی انتظامات اور موسمی الرٹس موجود تھے؟
حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے اکثر سڑک حادثات کی ذمہ داری لاپرواہ ڈرائیونگ، اوور اسپیڈنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ڈال دی جاتی ہے۔ بلاشبہ یہ عوامل اہم ہیں، مگر کیا یہ پوری کہانی ہے؟ اگر یہی سچ ہوتا تو پھر بڑے پیمانے پر چالان، بھاری جرمانے اور ہزاروں گاڑیوں کی ضبطی کے باوجود حادثات میں کمی کیوں نہیں آ رہی؟۲۰۲۵ میں ہی۵۲ ہزار سے زائد چالان، پندرہ کروڑ سے زیادہ کے جرمانے اور ہزاروں لائسنسوں کی معطلی کے باوجود اموات کا گراف نیچے آنے کے بجائے مسلسل بلند کیوں ہے؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ سڑک تحفظ کو ہم نے ایک انتظامی کارروائی بنا دیا ہے، نہ کہ ایک ہمہ جہت انسانی ذمہ داری۔ حکومت کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ جرمانوں کے ذریعے خزانہ بھرتی رہے۔ لاکھوں کروڑوں روپے کے چالان اس بات کا ثبوت نہیں کہ سڑکیں محفوظ ہو رہی ہیں، بلکہ یہ اس بات کا اشارہ بھی ہو سکتے ہیں کہ نظام ناکام ہو چکا ہے اور وہ اپنی ناکامی کا بوجھ عوام پر ڈال رہا ہے۔
جموں و کشمیر کی شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے میں کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے پہلے، ناقص انفراسٹرکچر۔ کئی قومی و ریاستی شاہراہیں اب بھی تنگ، بغیر حفاظتی ریلنگ، ناقص ڈرینیج اور خطرناک موڑوں پر مشتمل ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، پتھروں کا گرنا اور برفباری ایک معمول ہے، مگر ان خطرات سے نمٹنے کے لیے مستقل اور سائنسی اقدامات ناپید ہیں۔ حادثات کے بعد عارضی مرمت تو ہو جاتی ہے، مگر بلیک اسپاٹس کی مستقل اصلاح اکثر فائلوں میں ہی دب کر رہ جاتی ہے۔
دوسرا بڑا مسئلہ موسمی وارننگ اور رسپانس سسٹم کی کمزوری ہے۔ ڈوڈہ حادثے میں بھی خراب موسم اور خطرناک راستے کا ذکر سامنے آیا، مگر سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں نقل و حرکت کی اجازت کیوں دی گئی؟ کیا بروقت الرٹس، سڑک بندش یا متبادل راستوں کا انتظام نہیں ہو سکتا تھا؟ اگر فوج جیسا منظم ادارہ بھی موسمی خطرات کا شکار ہو سکتا ہے تو عام شہری کس حد تک محفوظ ہیں؟
تیسرا پہلو ایمرجنسی رسپانس اور ریسکیو نظام کا ہے۔ کئی حادثات میں قیمتی جانیں اس لیے ضائع ہو جاتی ہیں کہ بروقت طبی امداد اور ریسکیو ممکن نہیں ہو پاتا۔ دور دراز علاقوں میں ایمبولینس، ٹراما سینٹرز اور ہوائی ریسکیو کی سہولتیں ناکافی ہیں۔ سڑک حادثہ اگر فوری موت کا سبب نہ بھی بنے تو تاخیر سے پہنچنے والی امداد اسے جان لیوا بنا دیتی ہے۔
چوتھا اور اہم پہلو ادارہ جاتی جوابدہی کا فقدان ہے۔ جب کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے تو چند دن بیان بازی، تعزیت اور تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے، مگر شاذ و نادر ہی یہ معلوم ہو پاتا ہے کہ آخر کس کی لاپرواہی سے یہ سانحہ پیش آیا۔ کیا کسی انجینئر، کسی کنٹریکٹر، کسی افسر یا کسی ادارے کو واقعی جوابدہ ٹھہرایا گیا؟ جب تک ذمہ داری کا تعین اور سزا کا نظام مضبوط نہیں ہوگا، حادثات محض اعداد میں بدلتے رہیں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جموں و کشمیر میں سڑک تحفظ کے لیے ایک جامع، ٹھوس اور قابلِ عمل لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ سب سے پہلے، GIS اور ڈیٹا پر مبنی نشاندہی کے بعد تمام بلیک اسپاٹس کی مستقل انجینئرنگ اصلاح کی جائے، نہ کہ عارضی پیچ ورک۔ پہاڑی علاقوں میں جدید حفاظتی ریلنگ، اسمارٹ وارننگ سسٹمز، اور موسمی سنسرز نصب کیے جائیں۔ دوسرے، خراب موسم میں نقل و حرکت کے لیے واضح ایس اوپیزبنائے جائیں، جن پر کسی دباؤ یا مجبوری کے بغیر سختی سے عمل ہو۔
ایمرجنسی رسپانس کو مضبوط بنایا جائے‘ہر حساس شاہراہ پر ٹراما کیئر پوائنٹس، تربیت یافتہ ریسکیو ٹیمیں اور ایئر ایمبولینس کی سہولت کو یقینی بنایا جائے۔ چوتھے، ٹریفک قوانین کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ڈرائیوروں کی تربیت، آگاہی اور لائسنسنگ نظام کو بھی جدید اور شفاف بنایا جائے۔
سب سے بڑھ کر، حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انسانی جانوں کا تحفظ محض ایک محکمانہ ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اخلاقی فرض ہے۔ ڈوڈہ کے شہید فوجیوں کی قربانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ اگر ریاست اپنے محافظوں اور شہریوں کو محفوظ راستے فراہم نہیں کر سکتی تو یہ ایک اجتماعی ناکامی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سڑک حادثات کو ’حادثہ‘ سمجھ کر بھولنے کے بجائے ایک مستقل بحران کے طور پر لیا جائے۔ جب تک جموں و کشمیر کی شاہراہیں محفوظ نہیں ہوں گی، ترقی، سیاحت اور معمولاتِ زندگی کے تمام دعوے کھوکھلے رہیں گے۔ ڈوڈہ کا سانحہ محض ایک خبر نہیں—یہ ایک وارننگ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس وارننگ سے کچھ سیکھیں گے، یا اگلے حادثے تک خاموش رہیں گے؟





