اپنے کشمیر ……جموںکشمیر میں ہمارے بڑے بڑے لوگ بڑی بڑی باتیں کرنے لگے ہیں اور ہم ٹھہرے چھوٹے ……بہت چھوٹے ‘ اس لئے ہم ان بڑے بڑے لوگوں کی بڑی بڑی باتوں پر کوئی بات نہیں کر سکتے ہیں کہ اگر ہم نے کوئی بات کی تو اللہ میاں کی قسم اسے ……چھوٹا منہ چھوٹی بات کہہ کر مسترد کر دیا جائے گا …… جو ہم نہیں چاہتے ہیں …… بالکل بھی نہیں چاہتے ہیں ‘ اس لئے اچھا ہے کہ ہم ان بڑے بڑے لوگوں کی بڑی بڑی باتوں ……جیسے علیحدہ جموں ریاست کا قیام ‘ کشمیر اور جموں میں طلاق ‘ یا کشمیر کو الگ……جموں سے الگ کرنے کی بڑی بڑی باتوں پر کوئی بات نہیں کریں گے …… بالکل بھی نہیں کریں گے …… ہم تو صاحب میڈم جی …… میڈم محبوبہ مفتی صاحبہ کی چناب اور پیر پنجال خطوں کو ایک الگ صوبہ بنانے کی بات پر بھی کوئی بات نہیں کریں گے ……کہ ڈاکڑ صاحب ‘ داکٹر فاروق عبداللہ صاحب اسے ڈکسن پلان کا حصہ قرار دے رہے ہیں ……ڈاکٹر صاحب شوق سےاسے ڈکسن پلان کا حصہ قرار دیں …… لیکن ایسا کرنے سے پہلے انہیں ایک بات بھولنی نہیں چاہئے کہ …… کہ کشمیر ‘ جموں کشمیر کے حوالے سے تمام پلان…… تمام کے تمام پلانوں کااگست ۲۰۱۹ میںقصہ تمام ہو گیا تھا ……اس لئے میڈم جی اگر ان دو خطوں کو جموںکشمیر کا تیسرا صوبہ بنانے کی بڑی بات کررہی ہیں تو……تو ڈاکٹر صاحب کو سوچنا چاہئے کہ میڈم جی اصل میں کہنا کیا چاہتی ہیں کہ…… کہ ہمیں امید سے زیادہ اس بات پر یقین ہے کہ کسی اور کو سمجھ آیا ہو یا نہیں لیکن میڈم جی کی سمجھ میں یہ بات آئی ہو گی اور…… اور بہت پہلے آئی ہو گی کہ …… کہ جموںکشمیر پر تمام پلانوں کا قصہ سچ میں تمام ہو گیا ہے ……اس لئے میڈم جی اگر ایسی بات کررہی ہیں تو ……تو ہم ان کی اس بڑی بات پر کوئی بات…… بڑی یا چھوٹی بات کئے بغیر ہی ایک بات کہنا چاہتے ہیں کہ …… کہ یہ اچانک سے اپنے جموںکشمیر کے بڑے بڑے لوگ‘ اتنی بڑی بڑی باتیں کیوں کررہے ہیں ……اگر کررہے ہیں تو اللہ میاں کی قسم اس کی ضرور کوئی وجہ ہو گی اور وہ وجہ کیا ہو گی صاحب !یہ ضروری نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے کہ وہ ہماری اس نا سمجھ‘ سمجھ میں آجائے کہ …… کہ ہم ٹھہریں چھوٹے لوگ ‘ جو بڑے بڑے لوگوں کی بڑی بڑی باتیں تو سن سکتے ہیں لیکن ……باتیں…… بڑی بڑی باتیں تو کیا چھوٹی چھوٹی باتیں بھی نہیں کر سکتے ہیں …… بالکل بھی نہیں کر سکتے ہیں ۔ ہے نا؟




