نئی دہلی، 7 جنوری (یو این آئی) دہلی کے وزیر داخلہ آشیش سود نے کہا ہے کہ ترکمان گیٹ پر واقع مسجد درگاہ فیضِ الٰہی کے قریب تجاوزات ہٹانے کے دوران پیش آیا پتھراؤکا واقعہ نہایت افسوسناک ہے ۔
مسٹر سود نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ مسجد کے اطراف کچھ تجارتی ادارے غیر قانونی طور پر قائم تھے ، جن کے خلاف عدالتی ہدایات کی تعمیل میں کارروائی کی جا رہی ہے ۔ قانونی دائرے میں رہ کر جاری کام کو روکنا یا اس میں رکاوٹ ڈالنا سراسر غلط ہے ۔ اس کارروائی کی مخالفت میں بعض مجرمانہ اور شرپسند عناصر نے احتجاج اور تشدد کیا، جو ناقابلِ قبول ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث قصورواروں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے ۔ اب تک اس معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے ۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مسجد فیضِ الٰہی مکمل طور پر محفوظ ہے ۔ یہ کارروائی صرف ان غیر قانونی تجارتی اداروں کے خلاف کی جا رہی ہے جو عدالتی احکامات کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس میں حکومت کی کوئی من مانی یا بدنیتی شامل نہیں ہے ۔
دہلی کابینہ وزیر نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی قسم کے اشتعال میں نہ آئیں۔ جو لوگ اشتعال میں آ کر قانون اپنے ہاتھ میں لیں گے ، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے تمام امن پسند لوگوں سے درخواست کی کہ وہ ایسے شرپسند عناصر کی شناخت میں انتظامیہ کو تعاون دیں اور باہمی ہم آہنگی اور امن قائم رکھیں۔
واضح رہے کہ بدھ کی علی الصبح دہلی میونسپل کارپوریشن نے دہلی کے رام لیلا میدان کے قریب ترکمان گیٹ واقع مسجد درگاہ فیض الٰہی کے نزدیک تجاوزات ہٹانے کی مہم چلائی تھی۔ اس دوران ہوئے پتھراؤ میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو ئے ہیں۔










