ہفتہ, جون 6, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

ہمیںتعلیم اور کھیل پر سیاست سے بچنا ہو گا

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-01-08
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

جموں و کشمیر ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اصل مسئلے پس منظر میں اور جذباتی نعروں، علاقائی تعصبات اور مذہبی شناخت کی سیاست پیش منظر میں آتی دکھائی دے رہی ہے۔
شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس (SMVDIME) کے معاملے میں نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے لیٹر آف پرمیشن کی منسوخی ہو یا پھر فٹبال اور کرکٹ ٹیموں کے انتخاب کو مذہبی عینک سے دیکھنے کا رجحان—دونوں صورتیں ایک ہی خطرناک سوچ کی عکاس ہیں: وہ سوچ جو تعلیم اور کھیل جیسے غیرسیاسی شعبوں کو بھی سیاست کی بھینٹ چڑھانے پر آمادہ ہے۔
تعلیم اور کھیل کسی بھی سماج کی وہ بنیادیں ہیں جن پر مستقبل کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ یہ وہ میدان ہیں جہاں ریاست، مذہب، علاقہ اور ذات پات سے بالاتر ہو کر صرف صلاحیت، محنت اور میرٹ کو بولنا چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے جموں و کشمیر میں حالیہ برسوں کے دوران ایک ایسا ماحول بن رہا ہے جہاں ان دونوں شعبوں میں بھی شناخت کی سیاست داخل ہو چکی ہے۔
شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس میں داخلہ پانے والے طلبہ کے خلاف احتجاج ہو یا کھیلوں کی ٹیموں میں کھلاڑیوں کی تعداد کو مذہبی توازن کے پیمانے پر پرکھنا—یہ سب اسی زہر کی مختلف شکلیں ہیں۔
شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس کا معاملہ بظاہر انفراسٹرکچر، فیکلٹی اور سہولیات کی کمی کا ہے، جیسا کہ نیشنل میڈیکل کمیشن کی رپورٹ واضح کرتی ہے۔ اگر واقعی ادارہ کم از کم معیارات پر پورا نہیں اترتا تھا تو لیٹر آف پرمیشن کی منسوخی ایک انتظامی اور قانونی قدم ہے، جسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ لیکن اس پورے معاملے کو جس طرح مذہبی رنگ دے کر سڑکوں پر احتجاج کیا گیا، اس نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا کسی تعلیمی ادارے میں طلبہ کا داخلہ ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر طے ہونا چاہیے؟ کیا NEET جیسے قومی امتحان میں میرٹ پر کامیاب ہونے والے طلبہ سے یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ وہ کس مذہب یا کس خطے سے تعلق رکھتے ہیں؟
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے بیانات اسی پس منظر میں اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ اگر وہ خود والدین ہوتے تو ایسے ماحول میں اپنے بچے کو وہاں پڑھنے کے لیے بھیجنے سے گھبراتے، دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ سیاست اور تعصب نے تعلیمی ماحول کو کس حد تک آلودہ کر دیا ہے۔ ایک طالب علم کے لیے سب سے ضروری چیز تحفظ، وقار اور غیرجانبدارانہ ماحول ہوتا ہے۔ جب یہ یقین ختم ہو جائے کہ ادارہ اسے صرف ایک طالب علم کے طور پر دیکھے گا، نہ کہ کسی مذہب یا علاقے کے نمائندے کے طور پر، تو تعلیم کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
یہی معاملہ کھیلوں میں بھی نظر آتا ہے۔ کھیل کا میدان وہ جگہ ہے جہاں صرف کارکردگی بولتی ہے۔ گول کرنے والا کھلاڑی کسی مذہب کا نمائندہ نہیں ہوتا، بلکہ ٹیم کا اثاثہ ہوتا ہے۔ مگر جب فٹبال یا کرکٹ ٹیم کے انتخاب پر یہ سوال اٹھنے لگے کہ فلاں مذہب کے کھلاڑی زیادہ کیوں ہیں یا کم کیوں، تو یہ کھیل کے ساتھ ناانصافی ہی نہیں بلکہ سماج کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ آج اگر جموں میں فٹبال ٹیم کے انتخاب پر اعتراض ہے، تو کل کشمیر میں کسی اور معاملے پر اعتراض اٹھ سکتا ہے۔ اس طرح ہر فیصلہ شک کی نظر سے دیکھا جائے گا اور ہر کامیابی کو فرقہ وارانہ عینک سے پرکھا جائے گا۔
اس سوچ کا سب سے پہلا اور براہ راست شکار میرٹ بنتا ہے۔ میرٹ وہ اصول ہے جو کسی بھی صحت مند معاشرے کو جوڑے رکھتا ہے۔ جب میرٹ کی جگہ مذہب، علاقہ یا شناخت کو ترجیح دی جانے لگے تو نہ صرف نااہلی کو فروغ ملتا ہے بلکہ باصلاحیت نوجوانوں کا اعتماد بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ نوجوان جو برسوں محنت کر کے امتحانات پاس کرتے ہیں، میدان میں پسینہ بہاتے ہیں، اگر انہیں یہ احساس ہو جائے کہ ان کی محنت کا صلہ ان کی شناخت سے مشروط ہے، تو یہ ریاست کے مستقبل کے لیے خطرناک پیغام ہے۔
اس رجحان کا ایک اور بھیانک انجام سماجی تقسیم کی گہری خلیج کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ آج تعلیم اور کھیل میں مذہبی اور علاقائی تعصب داخل ہوا ہے، کل یہ ملازمتوں، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر شعبوں میں بھی سرایت کر سکتا ہے۔ ہر فیصلہ’ہم‘ اور ’وہ‘ کے خانوں میں بانٹا جانے لگے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جموں و کشمیر ایک مشترکہ سماجی شناخت کے بجائے مختلف، ایک دوسرے پر شک کرنے والی شناختوں میں بٹتا چلا جائے گا۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جموں و کشمیر پہلے ہی دہائیوں تک تنازع، تشدد اور عدم اعتماد کے دور سے گزر چکا ہے۔ ایسے میں اگر ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے تعصب کے بیج بوئے تو آنے والی نسلیں اس کی قیمت ادا کریں گی۔ تعلیم اور کھیل وہ دو شعبے ہیں جو زخموں پر مرہم رکھ سکتے ہیں، نوجوانوں کو ایک مشترکہ مقصد دے سکتے ہیں اور خطے کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ انہیں سیاست سے پاک رکھا جائے۔
ریاستی حکومت، سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور میڈیا‘سب کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس رجحان کے خلاف واضح مؤقف اختیار کریں۔ احتجاج کرنا جمہوری حق ہے، مگر اس حق کا استعمال نفرت، تعصب اور میرٹ کے قتل کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح اختلاف رائے ضرور ہو، مگر اس کی بنیاد حقائق، قانون اور اصولوں پر ہو، نہ کہ مذہبی یا علاقائی جذبات پر۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ کسی میڈیکل کالج میں کس مذہب کے کتنے طلبہ ہیں یا کسی ٹیم میں کس خطے کے کتنے کھلاڑی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ ادارہ معیارات پر پورا اترتا ہے؟ کیا وہ کھلاڑی کارکردگی کے لحاظ سے بہترین ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو باقی تمام سوالات غیرضروری اور نقصان دہ ہیں۔
اگر آج ہم نے تعلیم اور کھیل کو سیاست کی نذر ہونے دیا تو کل شاید کوئی بھی شعبہ اس زہر سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اس کا انجام ایک ایسا سماج ہو گا جہاں میرٹ بے معنی، اعتماد ناپید اور ہم آہنگی محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گی۔ جموں و کشمیر کو اس انجام سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ابھی فیصلہ کریں—تعلیم، کھیل اور مستقبل کو سیاست سے آزاد رکھنا ہے، ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

وشاکھ ریفائنری میں آر یو ایف کی ابتداخود انحصاری کی طرف ایک بڑا قدم:مودی

Next Post

ہمارے چھوٹے موٹے کام کیجئے

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

ہمارے چھوٹے موٹے کام کیجئے

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.