دن مہینے سال گزرتے جائیں ………اور ہر نئے سال پر اپنے گورے گورے بانکے چھورے ‘عمرعبداللہ صاحب پُر امید ہونے کا ڈرامہ کریں گے………صرف ڈرامہ کہ ………کہ اللہ میاں کی قسم یہ بات وہ بھی جانتے ہیں……… مانتے ہیں یا نہیں ‘لیکن جانتے ہیں کہ جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ نہیں ملے گا ……..کم از کم ان کے دورِ حکومت میں نہیں ملے گا ……… دن مہینے اور سال……… پانچ سال گزر جائیں گے اور اپنے وزیر اعلیٰ صاحب یوںہی ہاتھ ملتے رہ جائیں ………اچھا ہے ……… ان کیلئے ہی نہیں بلکہ جموں کشمیر کےلئے بھی اچھا ہے اگر وزیر اعلیٰ صاحب اس حقیقت کو مانتے ہو ئے ………اسے تسلیم کرتے ہو ئے ………اس کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہو ئے کام پر لگ جائیں اور……… اور جو کچھ بھی ان کے بس میں ہے‘ ان کے ہاتھ میں ہیں وہ کر گزریں کہ ………کہ ان کے پاس اب دوسرا کوئی آپشن نہیں ہے ۔عمرعبداللہ ۲۰۲۴ میں وزیر اعلیٰ بن گئے تھے اور یہ ۲۰۲۶ چل رہا ہے ………یقینا ابھی اس کی شروعات ہی ہوئی ہے ……… لیکن چل تو یہ ۲۰۲۶ ہے نا………اس لئے صاحب ‘اب یہ بہانہ نہیں چلے گا کہ………کہ ’میرے ہاتھ بندھے ہو ئے ہیں ‘یا ’میرے ہاتھوں میں کچھ بھی نہیں ہے ‘………جو کچھ بھی وزیر اعلیٰ صاحب آپ کے ہاتھ میں ہے ‘ اسی پر اکتفا کیجئے اور………اور لوگوں کو اپنے ہونے کا احساس دلائے……… انہیں نظر آنا چاہئے ………آپ کا ہونا انہیں نظر آنا چاہئے ………زمین پر آپ کی موجودگی انہیں نظر آنی چاہئے کہ لوگوں نے تو صاحب آپ کو اسی لئے ووٹ دیا تھا ……… تاکہ آپ نظر آئیں ………ان کے کام کرتے نظر آئیں ………سو آپ کام کیجئے ۔ وہ کیا ہے کہ تاریخ کسی کو معاف کرتی ہے اور نہ کسی سے نا انصافی ہے………آپ جو کریں گے ‘اس کا فیصلہ تاریخ خود سنائےگی ………وہ خود اس کا فیصلہ کرےگی ……… لیکن سوال صرف یہ ہے کہ آپ کچھ کریں ………کہ لوگوں کا جاننا اور ماننا ہے کہ اب تک آپ نے صرف زبان چلائی ہے………ہاتھ نہیں چلائے ہیں……… بالکل بھی نہیں چلائے ۔ہمارے لئے تو سٹیٹ ہڈ کی بحالی بڑی بات ہے ………اور ہم ٹھہرے چھوٹے لوگ،ہمیں ان بڑی بڑی باتوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے………یہ بڑے کام ہیں ………ہمیں اپنے کام ………چھوٹے موٹے کاموں سے لینا دینا ہےاور………اور وزیرا علیٰ صاحب آپ ہمارے لئے ہمارے کام کیجئے ………چھوٹے موٹے کام………بس ہم اس نئے سال سے یہی ایک امید رکھتے ہیں یا رکھنا چاہتے ہیں ۔ ہے نا؟




