جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

 منشیات کے استعمال میں تین گنا اضافہ:اب آگے کیا؟

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-01-06
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

کشمیر میں منشیات کا مسئلہ اب سماجی خدشے سے آگے بڑھ کر ایک کھلے بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں تقریباً تین گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ نوجوانوں میں ہیروئن کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ یہ صورتِ حال محض صحت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی ناکامی اور فوری توجہ کا تقاضا کرنے والا سماجی المیہ ہے۔
ڈویژنل کمشنر کشمیر کی جانب سے سامنے آنے والے اعداد و شمار ایک سخت انتباہ ہیں۔ خاص طور پر نوجوانوں میں ہیروئن کے بڑھتے ہوئے استعمال نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ نوجوان، جو کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، اگر نشے کی دلدل میں دھنسنے لگیں تو یہ صرف انفرادی المیہ نہیں رہتا، بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
یہ حقیقت بھی کم تشویشناک نہیں کہ منشیات اب کسی ایک طبقے، علاقے یا تعلیمی پس منظر تک محدود نہیں رہیں۔ یہ وبا شہروں سے دیہات تک، اسکولوں سے کالجوں تک، اور بظاہر محفوظ گھروں کی دہلیز تک پہنچ چکی ہے۔ نشہ اب صرف جرم یا اخلاقی لغزش نہیں رہا، بلکہ ایک پیچیدہ بیماری کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے علاج کے لیے صرف پولیس یا عدالتیں نہیں، بلکہ دل، دماغ اور سماج سب کو متحرک ہونا ہوگا۔
ایسے میں حکومت کی جانب سے مسئلے کو سنجیدگی سے تسلیم کرنا ایک مثبت قدم ہے۔ یہ اعتراف کہ منشیات کا پھیلاؤ ایک ’سنگین سماجی چیلنج‘ ہے، خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اب معاملہ فائلوں اور رسمی بیانات سے آگے بڑھ چکا ہے۔ چیف سیکریٹری کی براہ راست نگرانی میں چلنے والی انسدادِ منشیات مہم اس عزم کی عکاس ہے کہ ریاستی سطح پر اس بحران کو معمولی نہیں سمجھا جا رہا۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا سرکاری مہمات اکیلے اس زہر کا توڑ کر سکتی ہیں؟
اسی تناظر میں مذہبی قیادت کو اس جدوجہد میں شامل کرنا ایک غیر معمولی اور بامعنی پیش رفت ہے۔ کشمیر جیسے معاشرے میں جہاں مسجد، منبر اور امام محض عبادت تک محدود نہیں بلکہ سماجی رہنمائی کا بھی اہم ذریعہ ہیں، وہاں علما اور ائمہ کا اس مہم میں شریک ہونا ایک فطری مگر دیر سے اٹھایا گیا قدم محسوس ہوتا ہے۔ یہ حقیقت کہ لوگ اپنے دکھ، خوف اور الجھن میں سب سے پہلے امامِ مسجد کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، اس کردار کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز(آئی ایم ایچ اے این ایس)گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر میں منعقدہ اجلاس، جہاں مختلف اضلاع سے آئے ائمہ نے شرکت کی، دراصل اس بات کا اعتراف تھا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف دواؤں اور مراکزِ بحالی تک محدود نہیں رہ سکتی۔ اس جنگ میں اعتماد، ہمدردی، رازداری اور اخلاقی سہارا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ’امام بطور فرسٹ رسپانڈر‘ کا تصور اسی انسانی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ ہر مریض سب سے پہلے ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتا، بلکہ کسی ایسے شخص کے پاس جاتا ہے جس پر وہ بھروسہ کرتا ہے۔
یہ بھی ایک خوش آئند پہلو ہے کہ اس مکالمے میں مذہب اور سائنس کو آمنے سامنے نہیں بلکہ شانہ بشانہ رکھا گیا۔ قرآن اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نشے کی مذمت، اور ساتھ ہی ماہرینِ نفسیات کی جانب سے نشے کو ایک بیماری کے طور پر سمجھانا، اس مسئلے کے حل کے لیے ایک متوازن بیانیہ فراہم کرتا ہے۔ یہ پیغام نہایت اہم ہے کہ نشہ آور شخص کوئی’مجرم‘ یا ’کردار سے گرا ہوا فرد‘ نہیں، بلکہ ایک مریض ہے جسے علاج، توجہ اور محبت کی ضرورت ہے، نفرت اور تحقیر کی نہیں۔
سماج میں پھیلا ہوا بدنامی (اسٹگما) اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ بہت سے خاندان بدنامی کے خوف سے اپنے بچوں کو علاج کے لیے آگے نہیں لاتے، نتیجتاً مسئلہ اندر ہی اندر ناسور بن جاتا ہے۔ ایسے میں جمعہ کے خطبات، مساجد کے بیانات اور مذہبی اجتماعات ایک ایسا پلیٹ فارم بن سکتے ہیں جہاں اس خاموشی کو توڑا جا سکے، اور مدد مانگنے کو کمزوری نہیں بلکہ حوصلہ قرار دیا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے کونسلرز کی تربیت، ہیلپ لائنز کا قیام، اور رضاکاروں کو شامل کرنا درست سمت میں قدم ہیں، مگر ان اقدامات کی کامیابی کا دارومدار ان کی زمینی عمل داری پر ہے۔ کیا دیہی علاقوں میں رہنے والا نوجوان ان سہولیات تک بآسانی رسائی حاصل کر سکتا ہے؟ کیا ایک غریب خاندان اپنے بچے کے علاج کا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟ کیا بحالی مراکز کی تعداد اور معیار بڑھتے ہوئے مسئلے کے تناسب سے ہم آہنگ ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب صرف منصوبوں میں نہیں، عملی نتائج میں تلاش کیے جانے چاہئیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ منشیات کے مسئلے کو محض ’سپلائی‘ کے زاویے سے نہ دیکھا جائے۔ جب تک طلب موجود ہے، رسد کسی نہ کسی راستے سے پہنچتی رہے گی۔ اس لیے روزگار کے مواقع، تعلیمی مصروفیات، کھیل، ثقافتی سرگرمیاں اور ذہنی صحت کی سہولیات، سب کو انسدادِ منشیات حکمتِ عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ایک بے روزگار، مایوس اور بے مقصد نوجوان نشے کا سب سے آسان شکار بنتا ہے۔
آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کشمیر میں منشیات کا بحران دراصل ہمارے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ یہ امتحان صرف حکومت، پولیس، یا ڈاکٹروں کا نہیں، بلکہ والدین، اساتذہ، علما، صحافیوں اور عام شہریوں سب کا ہے۔ اگر ہم نے آج آنکھیں بند رکھیں، تو کل ہمیں ایک ایسی نسل کا سامنا ہوگا جو جسمانی طور پر زندہ مگر روحانی طور پر شکستہ ہوگی۔
یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، بلکہ خود احتسابی کا ہے۔ یہ وقت نفرت کا نہیں، ہمدردی کا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، یہ وقت خاموشی توڑنے کا ہے۔ کیونکہ منشیات کے خلاف یہ جنگ بندوق یا قانون سے نہیں، بلکہ انسان سے انسان کے رشتے سے جیتی جائے گی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’ تین برسوں میں منشیات کی لت میں تین گنا اضافہ‘

Next Post

بھائی لوگ اور ٹرمپ صاحب!

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

بھائی لوگ اور ٹرمپ صاحب!

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.