’ بڑے پیمانے پر منشیات سے نجات کی مہم جاری ہے ‘ سری نگر کے مذہبی رہنماؤں کو بھی اس مہم کا حصہ بنایا گیا ہے‘
سرینگر: وادیٔ کشمیر میں گزشتہ تین برسوں کے دوران منشیات کی لت میں تین گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ نوجوانوں میں ہیروئن کے استعمال میں نمایاں بڑھوتری دیکھی جا رہی ہے۔
یہ بات ڈویژنل کمشنر کشمیر انشل گرگ نے ہفتہ کے روز یہاں کہی۔
گرگ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’منشیات کی لت ہم سب کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ گزشتہ۳ سے ساڈھے تین برسوں میں اس میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ہم سب کے لیے ایک وارننگ سگنل ہے‘‘۔
صوبائی کمشنر نے کہا کہ نوجوانوں میں ہیروئن کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے، جسے انہوں نے ایک سنگین تشویش قرار دیا۔انہوں نے مزید کہا’’نوجوان چاہے وہ تعلیمی اداروں میں ہوں، کالجوں میں ہوں یا کوچنگ سینٹروں میں، اس لت کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہیروئن کا استعمال بڑھ رہا ہے اور یہ ہمارے لیے ایک بڑی تشویش ہے۔ ہمیں ایک معاشرے کے طور پر مل کر اس کے خلاف لڑنا ہوگا‘‘۔
گرگ نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں ایک بڑے پیمانے پر منشیات سے نجات (ڈی ایڈکشن) مہم جاری ہے، جس کی ذاتی طور پر نگرانی چیف سیکریٹری کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سری نگر کے مذہبی رہنماؤں کو بھی اس مہم کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ وہ معاشرے میں اس حوالے سے بیداری پیدا کریں۔
دریں اثناایک پولیس ترجمان نے ہفتہ کے روز بتایا کہ جموں میں پولیس نے سال۲۰۲۵کے دوران منشیات کے خلاف اپنی مسلسل اور سخت کارروائی کے تحت۳۱۱ منشیات فروشوں کو گرفتار کیا، جن میں۳۵ خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ۶۰ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ہیروئن ضبط کی گئی۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ۱۱خطرناک منشیات فروشوں کو سخت گیر پریوینشن آف الیسٹ ٹریفک اِن نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا، جبکہ سال کے دوران۴۸مقدمات میں سزائیں بھی دلائی گئیں۔
پولیس کے ترجمان نے کہا’’جموں ضلع کی پولیس نے۲۰۲۵کے دوران منشیات کے ناسور کے خلاف اپنی مسلسل جدوجہد میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، اور منشیات کے تئیں زیرو ٹالرینس پالیسی کو ہدفی نفاذ، انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں اور عوامی شراکت داری کے ذریعے مضبوط کیا‘‘۔
ترجمان نے مزید کہا’’سال کے دوران این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ۲۰۴؍ایف آئی آر درج کی گئیں، جن کے نتیجے میں۳۱۱ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن میں۳۵ خواتین منشیات فروش شامل ہیں، جبکہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث۷۱ گاڑیاں ضبط کی گئیں۔ ان میں سے۲۰۷ملزمان کو ہیروئن کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق متعلقہ ایکٹ کے تحت بغیر ضمانت یا باضابطہ عدالتی کارروائی کے احتیاطی نظربندی کی اجازت دی جاتی ہے، جس کا مقصد بڑے پیمانے پر منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنا ہے۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ برآمد شدہ منشیات میں بین الاقوامی منڈی میں۶۰کروڑ روپے مالیت کی۱۵کلوگرام سے زائد ہیروئن‘۷۸کلوگرام گانجا اور۱۱۴کلوگرام پوست کا بھوسہ شامل ہے، اس کے علاوہ کیپسولز اور افیون کی بڑی مقدار بھی ضبط کی گئی۔
منشیات کے نیٹ ورکس کی مالی ریڑھ کی ہڈی توڑنے کے لیے، جموں پولیس نے منشیات کی کمائی سے حاصل کی گئی تین غیر منقولہ جائیدادیں، جن کی مالیت۵۸لاکھ۷۰ ہزارلاکھ روپے ہے، اور ایک گاڑی جس کی مالیت۱۱لاکھ۴۰ہزار لاکھ روپے ہے، ضبط کی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ضلع کے اندر منشیات کے تین شناخت شدہ ہاٹ اسپاٹس پر تقریباً دو درجن غیر قانونی ڈھانچوں کو مسمار کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق، سال کے دوران۸۲ مقدمات میں ضبط شدہ منشیات کو بڑے پیمانے پر تلف کیا گیا، جن میں۵ہزار۲۹۳کلوگرام سے زائد پوست کا بھوسہ‘۴۹ کلوگرام سے زائد چرس‘۴۴کلوگرام سے زائد چرس‘۴کلوگرام گانجا، تقریباًڈیڑھ کلوگرام ہیروئن اور ایک کلوگرام براؤن شوگر شامل ہے۔










