سرینگر/۲۳دسمبر
ایک پاکستانی رکنِ پارلیمان نے اپنی ہی قیادت کی منافقت کو بے نقاب کرتے ہوئے اسلام آباد کی کابل کے خلاف فوجی کارروائیوں اور بھارت کے ’آپریشن سندور‘ کے درمیان مماثلت کی نشاندہی کی ہے۔
پاکستانی فوج، جس کی قیادت عاصم منیر کر رہے ہیں، کی جانب سے افغانستان پر کیے گئے حملوں‘جن میں شہری ہلاکتیں ہوئیں‘کی مذمت کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد کی منطق پر سوال اٹھایا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر پاکستان کی سرحد پار کارروائیوں کو جائز سمجھا جاتا ہے تو پھر بھارت کے پاکستانی حدود میں داخل ہو کر دہشت گردوں کو ختم کرنے پر اعتراض کی کوئی اخلاقی بنیاد باقی نہیں رہتی۔
مولانا فضل الرحمٰن پیر کے روز کراچی کے علاقے لیاری میں منعقدہ ’مجلسِ اتحادِ امت‘ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ لیاری حال ہی میں اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب رنویر سنگھ کی فلم دھرندھر میں اسے انڈرورلڈ، مخبروں اور آپریٹو نیٹ ورکس کے پس منظر کے طور پر دکھایا گیا۔
فضل الرحمٰن نے کہا’’اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے افغانستان میں اپنے دشمن پر حملہ کیا اور اسے جائز قرار دیتے ہیں، تو پھر بھارت بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے بہاولپور، مریدکے اور کشمیر حملے کے ذمہ دار گروہوں کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا۔ پھر آپ اعتراض کیسے کر سکتے ہیں؟ یہی الزامات اب افغانستان پاکستان پر لگا رہا ہے۔ آپ دونوں مؤقف کو کیسے درست قرار دے سکتے ہیں؟‘‘
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے اپنی بات میں خاص طور پر ’آپریشن سندور‘ کا حوالہ دیا۔
۷ مئی کو بھارتی مسلح افواج نے علی الصبح پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردی کے نو اہداف پر میزائل حملے کیے، جن میں بہاولپور میں جیشِ محمد کا مضبوط گڑھ اور مریدکے میں لشکرِ طیبہ کا اڈہ شامل تھا۔
اس کارروائی کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا، جس کا مقصد ۲۲؍ اپریل کو ہونے والے حملے میں بیواؤں کا بدلہ لینا تھا، جس میں دہشت گردوں‘جو لشکرِ طیبہ سے وابستہ ایک ذیلی گروہ سے تعلق رکھتے تھے‘نے۲۶ عام شہریوں، تمام مردوں، کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔
دہشت گردوں کے لانچ پیڈز پر کیے گئے ان انتہائی درست حملوں کے بعد پاکستان کی جانب سے جارحیت دیکھنے میں آئی۔ پاکستانی فوج نے ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کے ذریعے بھارت کے کئی شہروں اور قصبوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جسے بھارتی افواج نے ’ناکام‘ بنا دیا۔
مولانا فضل الرحمٰن پاکستان کی افغانستان سے متعلق پالیسی کے مستقل ناقد رہے ہیں۔ اکتوبر میں، جب دونوں ممالک کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار تھے، انہوں نے دونوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔
اخبار ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا تھا’’ماضی میں میں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے اور اب بھی ایسا کر سکتا ہوں‘‘۔
فضل الرحمٰن خطے میں خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور وہ واحد پاکستانی رکنِ پارلیمان ہیں جنہوں نے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ سے ملاقات کی ہے۔
حال ہی میں بھارت نے افغانستان پر پاکستان کے تازہ حملوں کی مذمت کی۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا’’ہم نے سرحدی جھڑپوں سے متعلق رپورٹس دیکھی ہیں، جن میں متعدد افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’ہم معصوم افغان عوام پر ایسے حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ بھارت افغانستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور آزادی کی بھرپور حمایت کرتا ہے‘‘۔
طالبان حکومت کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حملوں کی شروعات پاکستان نے کیں اور کابل کو ’’جوابی کارروائی پر مجبور ہونا پڑا‘‘۔
طالبان کے۲۰۲۱میں کابل کا کنٹرول دوبارہ سنبھالنے کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات مسلسل بگڑتے چلے گئے ہیں۔ اسلام آباد افغانستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے، جس کی افغان حکومت تردید کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










