کیا ملک میں جمہوریت محفوظ رہ سکتی ہے جب وزیراعظم، وزیراعلیٰ کا فیصلہ ’درانداز‘ کریں گے؟:امیت شاہ
سرینگر/۱۰دسمبر
لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات پر بحث کے دوران مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کی تقریر میں ان اور قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے درمیان سخت ٹکراؤ دیکھنے میں آیا۔ جب کانگریس کے رکن پارلیمان نے وزیر کو اپنی پریس کانفرنس پر، جس میں انہوں نے ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا، بحث کرنے کی للکار دی، تو بی جے پی لیڈر نے پلٹ کر جواب دیا کہ یہ کوئی طے نہیں کرے گا کہ وہ کس ترتیب سے بات کریں گے۔
اپنی تقریر کے دوران اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ وہ موجودہ ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ساتھ ہی اسپیشل انٹینسیو ریویڑن (ایس آئی آر) پر بھی اعتراض اٹھاتے ہیں، جو کہ، ان کے مطابق، رولز کو اپڈیٹ کرنے اور صرف اہل ووٹرز کو شامل رکھنے کے لیے تھا۔ انہوں نے طنز کیا، ’’جب آپ جیت جاتے ہیں تو ووٹر لسٹیں بالکل ٹھیک ہوتی ہیں، آپ نئے کپڑے پہن کر حلف لیتے ہیں۔ لیکن جب آپ دھڑام سے گرتے ہیں، جیسے بہار میں، تب آپ کہتے ہیں کہ ووٹر لسٹ میں مسئلہ ہے… یہ دوہرے معیار نہیں چلیں گے۔‘‘
راہل گاندھی کی ووٹر لسٹوں سے متعلق پریس کانفرنسوں پر طنز کرتے ہوئے‘جن میں سے ایک کو ’’ہائیڈروجن بم‘‘ کہا گیا تھا‘شاہ نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف ’ووٹ چوری‘ کی بات کرتے ہیں، جب کہ بعض خاندان‘واضح اشارہ نہرو،گاندھی خاندان کی طرف‘’’نسلی ووٹ چور‘‘ رہے ہیں۔
اسی موقع پر گاندھی نے مداخلت کی اور شاہ سے کہا کہ پہلے یہ بتائیں کہ الیکشن کمشنرز کو اپنے عہدے کے دوران کسی بھی اقدام پر استثنیٰ کیوں دیا گیا ہے۔ وزیرِ داخلہ پر یہ الزام لگاتے ہوئے کہ انہوں نے ان کی پریس کانفرنسوں سے صرف اپنی پسند کے نکات چْنے، گاندھی نے چیلنج دیا: ’’اصل میں، آئیے میری پریس کانفرنس پر بحث کرتے ہیں۔ آئیے چلتے ہیں۔ امت شاہ جی، میں آپ کو تینوں پریس کانفرنسوں پر بحث کرنے کا چیلنج دیتا ہوں۔‘‘
غصے میں بھرے شاہ نے جواب دیا: ’’میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں۔ میں ۳۰ سال سے قانون ساز اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہوتا آیا ہوں۔ میرے پاس وسیع تجربہ ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف کہتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں میں پہلے اس یا دوسرے سوال کا جواب دوں۔ انہیں یہ بات واضح کر دوں: پارلیمنٹ آپ کی خواہشات پر نہیں چلے گی۔ میں فیصلہ کروں گا کہ میں کس ترتیب سے بات کروں گا۔ انہیں صبر کرنا چاہیے اور میرا جواب سننا چاہیے، میں سب کا جواب دوں گا۔ وہ میری تقریر کی ترتیب طے نہیں کریں گے۔‘‘
پیچھے نہ ہٹتے ہوئے گاندھی نے شاہ کے جواب کو ’’دفاعی اور خوف زدہ‘‘ قرار دیا۔
شاہ نے جواب دیا کہ وہ اکسانے پر نہیں آئیں گے اور کہا کہ ’ووٹ چوری‘ تب ہوتی ہے جب عوام کے مینڈیٹ کو پامال کیا جائے۔
گاندھی،نہرو خاندان پر نشانہ سادھتے ہوئے شاہ نے الزام لگایا کہ ’ووٹ چوری‘ کا پہلا واقعہ اس وقت ہوا جب آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم کا فیصلہ کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کانگریس کی صوبائی اکائیوں کے سربراہان کو ایک ایک ووٹ دینا تھا۔
’’تو۲۸ ووٹ سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ملے اور دو ووٹ جواہر لال نہرو کے حق میں ڈالے گئے۔ لیکن نہرو جی وزیراعظم بن گئے،‘‘ انہوں نے کہا، جس پر اپوزیشن بینچوں میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔انہوں نے ایک اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ اندرا گاندھی جب رائے بریلی سے جیتیں، تو الیکشن الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج ہوا۔ عدالت نے، ان کے مطابق، الیکشن کو کالعدم قرار دے دیا۔
شاہ نے کہا’’یہ ایک بڑی ووٹ چوری تھی۔ اور پھر کیا ہوا؟ ووٹ چوری کو چھپانے کے لیے انہوں نے ایک قانون بنایا کہ وزیراعظم کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا جا سکتا۔ قائدِ حزبِ اختلاف الیکشن کمشنرز کو استثنیٰ دینے کی بات کرتے ہیں، اور میں اس کا جواب دوں گا، لیکن وہ اس پر کیا کہیں گے؟ انہوں نے خود کو استثنیٰ دیا،‘‘
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا’’پھر انہوں نے ججوں کی سینئرٹی کو نظرانداز کرتے ہوئے، چوتھے نمبر والے جج کو چیف جسٹس بنایا اور پھر سپریم کورٹ میں کیس جیت لیا۔ یہ تاریخ ہے، شاید انہیں یہ کوئی نہیں پڑھاتا‘‘۔
راہل گاندھی کی والدہ اور سابق کانگریس صدر سونیا گاندھی پر نشانہ سادھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت میں ایک کیس دائر ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے شہریت حاصل کرنے سے پہلے ووٹ ڈالا تھا۔’’میں نے صرف ایک حقیقت بیان کی ہے،‘‘ انہوں نے کہا، جب کہ کانگریس کے ایم پیز نے اعتراض کیا کہ اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
شاہ نے راہل گاندھی، کانگریس اور اپوزیشن کے ای وی ایم (ای وی ایمز) پر اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کی مخالفت کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں ’’غیر قانونی تارکینِ وطن ووٹر لسٹ میں شامل رہیں‘‘۔اس پر اپوزیشن نے واک آؤٹ کر دیا۔
پارلیمنٹ کے باہر واک آؤٹ کی وجہ پوچھے جانے پر گاندھی نے کہا’’وزیر داخلہ کا جواب دفاعی تھا اور انہوں نے ان نکات کا جواب نہیں دیا جو ہم نے اٹھائے تھے۔ انہوں نے شفاف ووٹر لسٹوں، ای وی ایم کے ڈھانچے کی وضاحت، یا وہ ٹھوس ثبوت جنہیں میں نے اپنی پریس کانفرنسوں میں پیش کیا تھاکسی پر بھی بات نہیں کی۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ندائے مشرق ویب ڈیسک)










