جموں/۲دسمبر
روبیہ سعید اغوا کیس میں ایک خصوصی عدالت نے گرفتار کئے گئے شہری‘ شفاعت احمد شنگلو کو تحویل میں لینے کی سی بی آئی کی درخواست کو مسترد کردیا ہے ۔عدالت نے شنگلو کی رہائی کا بھی حکم دیا ۔
یہ فیصلہ گرفتاری کے محض ایک روز بعد سامنے آیا، جس نے اس ہائی پروفائل کیس میں کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
شنگلو کی تحویل سی بی آئی کو دینے سے انکار کرتے ہوئے خصوصی عدالت نے نوٹ کیا کہ ادارے کی جانب سے دائر کی گئی چارج شیٹ میں شنگلو کا کہیں ذکر موجود نہیں ہے۔
سی بی آئی نے ۵۳ سال پرانے اس کیس میں گرفتار کیے گئے شنگلو کی تحویل مانگی تھی اور جموں کی ٹی اے ڈی اے عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ تمام برسوں سے مفرور تھا۔
مقدمے کی سماعت تیسرے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج مدن لال نے کی، جو ٹاڈا سے متعلق معاملات کی خصوصی عدالت کے پریذائیڈنگ آفیسر بھی ہیں۔ سی بی آئی کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل اس وقت کمزور پڑ گئے جب عدالت نے اس کے تحویل کے مطالبے کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔
عدالتی کارروائی کے بعد سی بی آئی کی ٹیم عدالت سے خالی ہاتھ واپس لوٹی، جبکہ شنگلو کو رہا کر دیا گیا۔ شنگلو کے وکیل سہیل ڈار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کے م
¶کل کا نام نہ تو سی بی آئی کی ایف آئی آر میں شامل تھا اور نہ ہی چالان میں اسے بطور ملزم پیش کیا گیا تھا۔ وکیل نے دعویٰ کیا ’میرے م ¶کل کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں‘۔
سی بی آئی نے پیر کو شنگلو کو سرینگر سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، اور بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ ۹۸۹۱میں روبیہ سعید کے اغوا میں یاسین ملک اور دیگر افراد کے ساتھ سازش میں ملوث تھا اور اس کے سر پر ۰۱لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔
یاد رہے کہ اس کیس میں سی بی آئی پہلے ہی دو درجن افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کر چکی ہے ۔
۱۲۰۲میں ۰۱ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی، جن میں جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک بھی شامل ہیں۔ کئی ملزمان وفات پا چکے ہیں جبکہ متعدد، جن میں شنگلو بھی شامل تھا، مفرور قرار دیے گئے تھے ۔
۹۸۹۱سال میں روبیہ سعید ‘ جو اس وقت ۳۲برس کی تھیں ‘ کو سرینگر میں نوگام کے نزدیک ایک منی بس سے اغوا کیا گیا تھا۔ انہیں ۳۱دسمبر کو پانچ قید دہشت گردوں کی رہائی کے بدلے چھوڑا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد اب کیس کی تفتیش میں اگلے لائحہ عمل پر نگاہیں مرکوز ہیں، جبکہ سی بی آئی کے دلائل عدالت کے سامنے کیوں کمزور پڑے ، یہ سوال بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے ۔










