سرینگر/۲۹ نومبر
جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے آر پار ہونے والی تجارت‘ جوجموں و کشمیر اور پاکستان کے زیرقبضہ کشمیر کے درمیان ہوتی تھی‘جی ایس ٹی قانون کے تحت ریاست کے اندر ہونے والی تجارت کے زمرے میں آتی ہے، کیونکہ پاکستان کا زیر قبضہ کشمیر قانونی طور پر سابق ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔
عدالت ۲۰۱۷ سے ۲۰۱۹ کے دوران ایل او سی کے آر پار بارٹر/سامان کے تبادلے میں مصروف تاجروں کی طرف سے دائر رِٹ پٹیشنز پر سماعت کر رہی تھی۔
درخواست گزاروں نے ٹیکس حکام کی جانب سے جاری شوکاز نوٹسز کو چیلنج کیا تھا، جن میں جی ایس ٹی کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے جی ایس ٹی قانون کے تحت علاقائی دائرہ اختیار اور سپلائی کی درجہ بندی پر مختلف بنیادوں پر اعتراض اٹھایا تھا۔
جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس سنجے پریہار پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے ایل او سی تجارت سے متعلق جی ایس ٹی کے شوکاز نوٹسز کے خلاف دائر تمام پٹیشنز کو خارج کر دیا۔
بنچ نے قرار دیا’’یہ بات دونوں جانب کے وکلاء کے درمیان متنازع نہیں کہ ریاست کا وہ حصہ جو فی الحال پاکستان کے عملی کنٹرول میں ہے، ریاست جموں و کشمیر کی سرزمین کا حصہ ہے۔ لہٰذا اس معاملے میں سامان فراہم کرنے والے اور سپلائی کی جگہ دونوں اْس وقت متحدہ ریاست جموں و کشمیر (موجودہ یو ٹی) کے اندر تھے۔ اس لیے زیر بحث ٹیکس مدت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے کی گئی ایل او سی تجارت دراصل ریاست کے اندر ہونے والی تجارت ہی تھی‘‘۔
عدالت نے مزید کہا’’چونکہ قانون کے تحت مؤثر اور مساوی متبادل علاج دستیاب ہے، اس لیے ہم ان پٹیشنز پر غور کرنے کے حق میں نہیں ہیں، بلکہ درخواست گزاروں کو۲۰۱۷ کے سی جی ایس ٹی ایکٹ کے تحت دستیاب قانونی راستے اختیار کرنے کی ہدایت دیتے ہیں‘‘۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے استدلال کیا کہ اسلام آباد،اْوڑی اور راولا کوٹ (پی او کے) سے چکّن دا باغ (پونچھ) تک کی تجارت،جو بھارت اور پاکستان کے درمیان باہمی اتفاق سے بارٹر سسٹم کے تحت چلتی تھی،میں کرنسی کا تبادلہ نہیں ہوتا تھا۔
درخواست گزاروں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ایل او سی تجارت کو ’زیرو ریٹڈ سیل‘ کے طور پر سمجھ کر اس پر کوئی سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا تھا۔ویب ڈیسک










