بڈگام اور نگروٹہ کے ضمنی انتخابات کے نتائج ۱۴ نومبر کو سامنے آئیں گے، مگر ان نتائج سے قطع نظر ایک بات اب کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ وادی کے عوام‘چاہے وہ بڈگام کے ہوں یا دیگر علاقوں کے‘عمر عبداللہ کی حکومت کی گزشتہ ایک سالہ کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ عوام میں ایک بڑھتی ہوئی بے چینی ہے، ایک ایسی خاموش مایوسی جو ووٹ کے ذریعے اب زبان پا رہی ہے۔
یہ انتخابات دراصل حکومت کے لیے ایک آئینہ ہیں، جس میں عوام نے اپنی امیدوں کی شکست اور وعدوں کے خالی پن کو واضح کر دیا ہے۔ بڈگام کے ووٹروں نے جن مسائل کی طرف اشارہ کیا‘پانی، روزگار، سڑکیں، بنیادی سہولیات‘یہ سب وہ وعدے تھے جو پچھلے انتخابات کے دوران بار بار دہرائے گئے تھے۔ مگر آج، ایک سال گزر جانے کے بعد بھی یہ وعدے کاغذ سے آگے نہیں بڑھے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی تقاریر میں اکثر یہ کہا کہ ان کی حکومت کو کام کرنے کے لیے پورا وقت نہیں ملا۔ کبھی وہ ریاست میں دہرے حکومتی ڈھانچے کو اس تاخیر کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، کبھی یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ عوام نے ان کی حکومت کو پانچ برس کے لیے منتخب کیا ہے، لہٰذا حساب کتاب مدت پوری ہونے پر ہونا چاہیے۔ یہ دلیل بظاہر سیاسی طور پر سہل لگتی ہے، مگر عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان پانچ برسوں میں سے ایک سال گزر چکا ہے، اور عوام کو ابھی تک کسی سمت کی جھلک بھی دکھائی نہیں دی۔
گزشتہ ایک سال میں حکومت نے چند افتتاحی تقریبات اور دعووں کے علاوہ کوئی ایسی ٹھوس پالیسی نہیں دی جو لوگوں کی زندگی میں کسی حقیقی تبدیلی کی بنیاد رکھتی۔ عام شہری کو نہ بجلی کی فراہمی میں استحکام ملا، نہ پانی کی قلت سے نجات، نہ روزگار کے مواقع بڑھے، نہ ترقیاتی منصوبے زمینی حقیقت بن سکے۔ اکثر منصوبے اب بھی فائلوں میں مقید ہیں، اور عوام کے لیے حکومت کے وعدے ایک تسلسل کے ساتھ محض اعلانات میں بدلتے جا رہے ہیں۔
اس دوران وزیر اعلیٰ نے بارہا کہا کہ ریاست کا ’دوہرا حکومتی نظام‘ فیصلہ سازی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا قیادت کا کام محض شکایت کرنا ہے یا حل تلاش کرنا؟ اگر نظام پیچیدہ ہے تو اسے درست کرنا بھی قیادت کی ہی ذمہ داری ہے۔ عوام نے ووٹ دے کر یہی توقع کی تھی کہ موجودہ حکومت ماضی کی کمزوریوں سے سبق سیکھے گی اور ایک نیا راستہ دکھائے گی۔ مگر اب تک کی کارکردگی سے یہی تاثر ابھرا ہے کہ حکومت خود اپنی سمت سے بے خبر ہے۔
عوام کا سب سے بڑا گلہ یہ ہے کہ حکومت نے عام آدمی کے مسائل سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔ وہ لوگ جو انتخابی مہم کے دوران گلی گلی گھوم کر یقین دہانیاں کر رہے تھے، آج عوام سے دور ایوانوں میں محدود ہیں۔ عوامی رابطہ کمزور ہو گیا ہے، انتظامیہ کی رسائی سست ہے، اور فیصلے اکثر بند کمروں میں طے پاتے ہیں۔ بڈگام، چاڈورہ، بیروہ یا شوپیاں‘کہیں بھی عوام کو یہ محسوس نہیں ہو رہا کہ حکومت ان کی آواز سن رہی ہے۔
بڈگام کے ووٹروں کے بیانات دراصل وادی کے عوامی احساسات کا عکاس ہیں۔ ایک بزرگ ووٹر کا یہ کہنا کہ ’ہم ہر بار نئی امید سے ووٹ دیتے ہیں مگر جیت کے بعد رہنما غائب ہو جاتے ہیں‘ اس نظام پر عوام کے عدم اعتماد کی گواہی دیتا ہے۔ یہ جملہ کسی ایک فرد کی مایوسی نہیں بلکہ ایک اجتماعی احساس ہے، جو برسوں کے تجربات نے پیدا کیا ہے۔
یہ سچ ہے کہ جموںکشمیر حکومت کو چیلنجز کا سامنا ہے‘معاشی دباؤ، انتظامی رکاوٹیں، اور مرکز کے ساتھ اختیارات کی کشمکش‘لیکن کسی بھی قیادت کی اصل پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ مشکلات کے باوجود سمت طے کرے، نہ کہ مشکلات کو جواز بنائے۔ عوام کو بہانوں کی نہیں، نتائج کی ضرورت ہے۔ ایک سال گزرنے کے بعد بھی اگر حکومت محض منصوبوں کی فہرستیں سناتی رہے، تو اعتماد کا بحران گہرا ہونا فطری ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عمر عبداللہ نے اقتدار سنبھالتے وقت ایک بڑی امید جگائی تھی۔ نوجوان قیادت، جدید سوچ، اور شفاف طرز حکمرانی کے نعروں نے عوام کو یقین دلایا تھا کہ شاید اب کوئی نیا آغاز ہوگا۔ مگر ایک سال بعد وہی پرانے مسائل، وہی انتظامی سستی، اور وہی غیر سنجیدگی سامنے ہے۔ عوام کے لیے تبدیلی کا خواب اب ایک اور سراب بنتا جا رہا ہے۔
حکومت کے لیے یہ لمحہ غور و فکر کا ہے۔ بڈگام کی پولنگ صرف ایک انتخابی عمل نہیں بلکہ ایک عوامی پیغام بھی ہے‘ایک خاموش انتباہ کہ اگر وعدے عمل میں نہ بدلے تو اعتماد کی بنیادیں ہل سکتی ہیں۔ ضمنی انتخابات کے اعداد و شمار‘ں بڈگام میں ووٹنگ ۵۰ فیصد کے قریب رہی‘یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عوام نے باوجود مایوسی کے جمہوری عمل پر بھروسہ رکھا، لیکن یہ بھروسہ ہمیشہ کے لیے برقرار نہیں رہ سکتا۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ان جذبات کو سنجیدگی سے لے۔ ترقیاتی منصوبوں کو محض تقریروں سے نکال کر زمین پر اتارا جائے۔ نوجوانوں کے روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے شفاف نظام وضع کیا جائے۔ گاؤں اور قصبوں کی سطح پر بنیادی سہولیات‘پانی، بجلی، صحت، تعلیم‘کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر، عوام سے رابطہ بحال کیا جائے۔
عمر عبداللہ اگر واقعی اپنی حکومت کو ایک ’نئی سیاست‘کا نمونہ بنانا چاہتے ہیں تو انہیں روایتی سیاسی رویوں سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ عوام اب محض وعدوں سے مطمئن نہیں ہوں گے؛ انہیں عمل چاہیے، شفافیت چاہیے، اور یہ یقین کہ ان کی آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچتی ہے۔
پانچ سالہ مدت کا حوالہ دینا آسان ہے، مگر قیادت کا امتحان ہر دن، ہر فیصلے اور ہر تاخیر میں ہوتا ہے۔ ایک سال بیت چکا ہے‘اب وقت ہے کہ خوابوں سے حقیقت تک کا سفر شروع ہو۔ اگر حکومت نے اب بھی اپنی روش نہ بدلی تو آئندہ انتخابات میں عوام کا فیصلہ ان کی کارکردگی پر مہر ثبت کرے گا، چاہے بیانات کچھ بھی ہوں۔
یہ اداریہ محض حکومت پر تنقید نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ اقتدار عوام کی امانت ہے، اور امانت کا تقاضا عمل ہے، وعدے نہیں۔





