چلئے صاحب وہ دن آہی گیا … فیصلے کا دن۔ نہیں جناب اللہ بچائیے‘ہم یوم آخرت جو کہ حقیقی فیصلے کا دن ہے‘ اس کی بات نہیں کررہے ہیں… بالکل بھی نہیں کررہے ہیں تو… تو صاحب بڈگام اسمبلی حلقے کے ضمنی الیکشن کی بات کررہے ہیں جہاں آج ووٹ ڈالے جائیں گے … اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا … الگ ہو جائیگا ۔نہیں صاحب اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ آج سیاسی جماعتوں کا امتحان ہے… امیدواروں کا امتحان ہے تو… تو معاف کیجئے، آپ غلط ہیں، آپ غلط سوچ رہے ہیں … آج امتحان آپ کا ہے، ووٹ ڈالنے والوں،ووٹروں کا … ان کی سمجھ بوجھ ‘ فہم اور … اور سیاسی شعور کا ہے…لوگ آج اس بات کا ثبوت دیں گے کہ وہ سیاسی طور پر کتنے باشعور ہیں… اتنے باشعور کہ… کہ انہیں کوئی ٹاپی نہیں پہنا سکتا ہے… اپنی ٹوپی اتار کر بھی انہیں ٹوپی نہیں پہنا سکتا ہے…یقینا آپشنز محدود ہیں… بالکل محدود…اور جو آپشن دستیاب ہیں،ان میں ایسا کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے یا جس کی جماعت نے ماضی میں پہلے اپنے سر سے ٹوپی اتاری اور پھر لوگوں کو پہنا نہ دی… ٹوپی پہنا نہ دی… دیکھیں تو لوگوں کو ایک مشکل صورتحال درپیش ہیں… لیکن کیا کیجئے گا کہ … کہ کم بخت سیاست … جمہوریت اسی چیز… نا چیز کا نام ہے کہ… کہ جہاں پانچ آٹھ چہرے لوگوں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور… اور ان پانچ آٹھ چہروں میں ہی لوگوں کو کسی کا انتخاب کرنا ہو تاہے… یو دیکھیں تو… تو لوگوں کے ووٹ ڈالنے سے پہلے ہی اس بات کا فیصلہ کیا جاتا ہے کہ لوگوں کو کسے یا کن کو ووٹ ڈالنے ہیں… انہی پانچ آٹھ چہروں کو … کسی کو کم تو کسی کو زیادہ … اور آج بڈگام میں بھی لوگ اسی مخمصے کا شکار ہوں گے … اور اس لئے ہوںگے کہ… کہ ان کے پاس بھی کچھ ایک چہرے ہی ہیں جن میں سے انہیں کسی ایک کو اپنا نمائندہ چننا ہو گا… بھلے ہی وہ اسکے لائق نہ ہو… بھلے ہی اس کی جماعت اور اس جماعت کی کا کردگی بالکل بھی ایسی نہ ہو کہ… کہ لوگ اسے دو بارہ اپنا نمائندہ منتخب کریں … لیکن … لیکن لوگوں کو یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا… حلق سے نیچے اتارنا ہی پڑے گا اور… اور یہی ان کا امتحان ہے …اور ان کا فیصلہ بھی ۔ ہے نا؟



