سرینگر/۲۹؍اکتوبر
جموں کشمیر حکومت نے بدھ کو ایوان میں کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں۸۱ء۲لاکھ گھریلو صارفین نے پہلی پاور ایمنسٹی اسکیم کے تحت فوائد حاصل کیے ہیں۔
رکن اسمبلی طارق قرہ کی طرف سے اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں حکومت نے کہا کہ صنعتی یونٹ ہولڈرز کے لیے بجلی کے واجبات کے حوالے سے ایمنسٹی سکیم متعارف کرانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے ۔
جواب میں کہا گیا’’پہلی ایمنسٹی اسکیم کے تحت جے پی ڈی سی ایل کے ایک لاکھ۶۴ہزار۷سو۲۹صارفین جبکہ کے پی ڈی سی ایل کے ایک لاکھ ۱۷ہزار ۲سو۳۷ صارفین اس پہل سے مستفید ہوئے ‘‘۔
حکومت نے بتایا کہ اس سے۳۲۲کروڑ روپیوں کی کل آمدنی ہوئی جس میں سے جے پی ڈی سی ایل سے۱۶۴کروڑ روپے اور کے پی ڈی سی ایل سے۱۵۸کروڑ رپیے حاصل ہوئے ۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جاری ایمنسٹی اسکیم کے تحت، جو کہ۴؍اگست ۲۰۲۵کو شروع ہوئی اور۳۱مارچ۲۰۲۶تک جاری رہے گی، اب تک ۱۸ہزار۸سو۵۴صارفین نے فائدہ اٹھایا ہے جس میں جے کے ڈی سی ایل کے تحت۵۴۷؍اور جے پی ڈی سی ایل کے تحت۱۸ہزار۳سو۷صارفین مستفید ہوئے ۔
حکومت نے کہا کہ ان اسکیموں میں صرف سود اور سرچارج کے اجزاء کو معاف کیا جاتا ہے جبکہ اصل رقم صارفین کو ادا کرنی ہوتی ہے کیونکہ یہ ایمنسٹی کے تحت نہیں آتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ معافی اور کنکشن کاٹنا الگ الگ مسائل ہیں، بجلی کی لائنیں صرف بھاری بقایا جات کی صورت میں منقطع کی جاتی ہیں جن کو جزوی ادائیگی پر فوری طور پر بحال کیا جاتا ہے اور غیر ادا شدہ بیلنس اگلی بلوں میں ظاہر کی جاتی ہے .یو این آئی۔










