سرینگر/۲۹؍اکتوبر
بدھ کے روز جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اْس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی جب بی جے پی کی رکنِ اسمبلی شگن پریہار نے الزام لگایا کہ حکومت ضلع کشتواڑ کے اْن علاقوں کو نظر انداز کر رہی ہے جہاں ’’قوم پرست ہندو‘‘ رہتے ہیں۔
زیرو آور کے دوران دیے گئے اس بیان پر حکومتی بینچوں نے سخت اعتراض کیا۔
وزیر جاوید ڈار نے کہا کہ یہ ریمارکس اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ نوعیت کے ہیں، اس لیے انہیں کارروائی سے حذف کیا جانا چاہیے۔
نیشنل کانفرنس کے رکنِ اسمبلی نذیر احمد خان گریزی نے کہا کہ ’’ہزاروں مسلمان اس ملک کے لیے قربانیاں دے چکے ہیں، ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا یا ان کی توہین کرنا ناقابلِ قبول ہے۔‘‘
ایوان میں شور شرابے کے درمیان نائب وزیرِ اعلیٰ سرندر چودھری نے کہا کہ ’’جموں و کشمیر میں مسلمان، سکھ اور عیسائی بھی اْسی طرح قوم پرست ہیں جیسے ہندو۔‘‘انہوں نے اسپیکر سے گزارش کی کہ ’’ایوان کے ریکارڈ سے ان تکلیف دہ الفاظ کو حذف کیا جائے۔‘‘
تاہم شگن پریہار نے وضاحت دی کہ پی ڈی پی کے اراکین نے بھی منگل کو ایوان کی کارروائی کے دوران اسی نوعیت کے ریمارکس دیے تھے۔ ان کے مطابق ’’پی ڈی پی کے اراکین نے کہا تھا کہ ہندو ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں۔‘‘
پریہار اور نائب وزیرِ اعلیٰ سرندر کمار چودھری دونوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ ایوان کی کارروائی کی ویڈیو ریکارڈنگ دیکھی جائے تاکہ حقائق سامنے آئیں۔کانگریس کے اراکین نے بھی بی جے پی رکن کے بیان پر سخت اعتراض کیا۔
وزیر جاوید احمد ڈار نے کہا کہ ’’حکومت کسی مذہبی بنیاد پر کام نہیں کرتی، ہم سب کے لیے برابری کے اصول پر کام کرتے ہیں۔‘‘
اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے بی جے پی رکن اسمبلی کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ پہلی بار اس ایوان میں آئی ہیں، لہٰذا اپنے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتیں۔ متنازعہ بیانات سے گریز کریں۔ آپ کا مستقبل روشن ہو، یہی ہم چاہتے ہیں۔‘‘
ایوان میں بعد ازاں ماحول معمول پر آیا، تاہم اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ ایسے ریمارکس ایوان کے ریکارڈ سے حذف کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے بیانات کی حوصلہ شکنی ہو۔ویب ڈیسک










