سرینگر/۲۸؍ اکتوبر
جموں کشمیر حکومت نے منگل کو کہا کہ رواں سال اگست کے آخر اور ستمبر کے اوائل میں ہونے والی شدید بارشوں اور بھاری لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سرینگر جموں قومی شاہراہ کئی دنوں تک بند رہی، جس کے باعث وادی ٔ کشمیر سے بیرونِ ریاست سیب اور دیگر باغبانی اجناس کی ترسیل متاثر ہوئی۔
اسمبلی میں دیے گئے ایک تحریری جواب میں حکومت نے کہا کہ ۲۰۲۵ کے سیزن میں وادی میں سیب کی پیداوار کا تخمینہ ۱۵ء۲۲ لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا ہے۔’’این ایچ ۴۴؍ اور مغل روڈ کی بندش سے پھلوں سے لدے ٹرکوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی، اور ۱۷ستمبر تک تقریباً ۲۲ہزار میٹرک ٹن (یعنی ۲۲۰۰ ٹرک) شاہراہ پر پھنس گئے تھے۔‘‘
حکومت نے بتایا کہ رکاوٹوں کے باوجود، انتظامیہ نے سرینگر جموں شاہراہ اور مغل روڈ دونوں راستوں سے۴۵ہزار۹۲۲ ٹرکوں پر مشتمل پھلوں کی کھیپ جموں و کشمیر سے باہر بھیجنے میں کامیابی حاصل کی، جن میں گزشتہ سیزن کا ذخیرہ شدہ مال بھی شامل تھا۔
مزید کہا گیا کہ ترسیل کو آسان بنانے کے لیے مغل روڈ کو بطور متبادل راستہ مکمل طور پر فعال کیا گیا، جبکہ بڈگام اور اننت ناگ سے دہلی اور جموں کے لیے ریل خدمات بھی بحال کر دی گئیں۔
حکومت نے کہا’’شاہراہ کی بندش کے دوران ایک لاکھ۲۵ہزار۳۷۶سیب کے بکسے جن کی مالیت۰۳ء۱۰ کروڑ روپے تھی، ریل کے ذریعے بھیجے گئے۔ اس کے علاوہ قاضی گنڈ میں ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا تاکہ ٹرکوں کی نقل و حرکت کی نگرانی اور ہم آہنگی کی جا سکے۔‘‘
تحریری جواب میں بتایا گیا کہ مجموعی پیداوار کا صرف تقریباً ایک فیصد حصہ ہی شاہراہ کی بندش کے دوران پھنس گیا، جبکہ بیشتر پھل معمول کے موسمی طریقے کے مطابق رفتہ رفتہ منڈیوں تک پہنچ رہے ہیں۔
’’۲۶؍ اور ۲۷؍ اگست اور بعد ازاں۲؍اور ۳ستمبر کو مسلسل بارشوں نے رام بن اور ادھمپور اضلاع میں شاہراہ کے کئی حصوں کو بہا دیا، جس کے نتیجے میں این ایچ ۴۴ پر لینڈ سلائیڈز اور فلیش فلڈز آئے۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے فوری بحالی کا کام شروع کیا اور ۱۰ ستمبر تک شاہراہ جزوی طور پر بحال کر دی گئی‘‘۔
حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مسلسل بارشوں اور سیلاب کے باعث باغبانی کسانوں کو بھاری نقصان ہوا۔جواب میں کہا گیا’’جموں و کشمیر بھر میں۰۹۱ء۴۳۱ہیکٹر رقبے پر ۳۳ فیصد سے زیادہ فصل کو نقصان پہنچا ہے۔ ایس ڈی آر ایف/این ڈی آر ایف کے ضوابط کے تحت کل قابلِ ادائیگی معاوضہ۵۲ء۱ کروڑ روپے ہے، جس میں سے۲۸ء۱۲ لاکھ روپے پہلے ہی ادا کیے جا چکے ہیں۔‘‘
آئندہ ایسے نقصانات سے بچنے کے لیے حکومت نے کہا کہ وہ ری اسٹرکچرڈ ویدر بیسڈ کراپ انشورنس اسکیم نافذ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جس میں سیب، زعفران، آم اور لیچی جیسی فصلیں شامل ہوں گی۔ انشورنس کمپنیوں کی نامزدگی (ٹینڈرنگ) کا عمل جاری ہے۔
حکومت نے مزید بتایا کہ کشمیر کی تقریباً ۵۰ فیصد باغبانی پیداوار اندرونِ وادی ہی منڈیوں میں فروخت کی جاتی ہے، جبکہ باقی مال بیرونی ریاستوں میں ویئر ہاؤسز اور کولڈ اسٹوریج کے ذریعے تجارت کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
جواب میں کہا گیا’’باقی۶۱ء۱۶لاکھ میٹرک ٹن میں وہ غیرکٹے ہوئے پھل شامل ہیں جو موجودہ سیزن کی پیداوار کا تقریباً ۷۵ فیصد بنتے ہیں۔(ندائے مشرق خبر)‘‘










