جمعرات, جون 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

لینڈ رائٹس بل:’زمین ہتھیانے کے دروازے کھول دیگا‘

جو زمین پر ناجائز قبضہ کیے بیٹھے ہیں‘ انہیں مفت زمین دینا ممکن نہیں:عمر

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-10-29
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
لینڈ رائٹس بل:’زمین ہتھیانے کے دروازے کھول دیگا‘

Omar

FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

سرینگر،/۲۸؍ اکتوبر
جموں و کشمیر اسمبلی نے منگل کے روز ایک نجی رکن کا بل مسترد کر دیا جس میں حکومت اور کمیونٹی زمینوں پر غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ مکانات کو مالکانہ حقوق دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کی منظوری سے ’زمین ہتھیانے کے دروازے کھل جائیں گے‘۔
یہ بل پی ڈی پی کے رکنِ اسمبلی وحید پرہ نے پیش کیا تھا، جس کا مقصد ان رہائشیوں کو ملکیتی یا منتقلی کے حقوق دینا تھا جن کے مکانات ایسی زمینوں پر تعمیر ہیں، اس بنیاد پر کہ آئین کے آرٹیکل۲۱ کے تحت شہریوں کو رہائش کا حق حاصل ہے۔
عمر عبداللہ نے ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’ہم ایسا بل کیسے منظور کر سکتے ہیں جو زمین مافیا اور غیر قانونی قابضین کو فائدہ پہنچائے؟ ایسے لوگوں کے بارے میں تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جموں و کشمیر کے شہری ہیں یا حال ہی میں آ کر یہاں مکان تعمیر کیا ہے، مگر ہمیں انہیں زمین دینی ہے؟‘‘
وزیر اعلیٰ کا یہ بیان اس سوال کے جواب میں آیا کہ ان کی حکومت نے پی ڈی پی کے نجی رکن کے اس بل کی حمایت کیوں نہیں کی جس کا مقصد سرکاری زمین پر مکانات تعمیر کرنے والوں کو ملکیتی حقوق دینا تھا۔
اس سے قبل پرہ سے بل واپس لینے کو کہا گیا تھا، تاہم پی ڈی پی رہنما نے نیشنل کانفرنس کے بانی اور سابق وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ کی ’زمین کسان کو‘ پالیسی اور ۲۰۰۲ میں فاروق عبداللہ کے دور میں نافذ ’روشنی اسکیم‘ کا حوالہ دیا۔
گرما گرم بحث کے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ متنازع اور ناکام ’روشنی اسکیم‘ کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کے دور میں ۲۰۰۲ کی اصل روشنی اسکیم کا مقصد ان افراد کو مالکانہ حقوق دینا تھا جن کے پاس دہشت گردی کے آغاز سے قبل قانونی قبضہ موجود تھا۔ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر صرف ہونی تھی۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ بعد میں پی ڈی پی،کانگریس حکومت نے غلام نبی آزاد کی قیادت میں ’پری ملیٹنسی‘ کی حد ہٹا دی، جس سے تنازعات پیدا ہوئے، حتیٰ کہ ’لینڈ جہاد‘ کے الزامات لگے، اور بالآخر عدالت میں حکومت اسے بچا نہ سکی۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ موجودہ بل روشنی اسکیم سے کہیں آگے بڑھ کر ریاستی زمین پر غیر قانونی قبضے کو جائز قرار دینے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا’’یہ تجویز روشنی اسکیم سے بھی آگے ہے۔ اس میں کسی حدِ وقت کا ذکر نہیں۔ اگر یہ منظور ہو گیا تو میں کل جا کر کسی زمین پر مکان بناؤں اور وہ زمین میرے نام ہو جائے گی۔ ایسا نہیں ہو سکتا‘‘۔
جب پرہ نے یہ کہا کہ حکومت کا موقف سیاسی خوف یا بی جے پی سے دباؤ کے باعث ہے، تو وزیر اعلیٰ نے شیخ عبداللہ کے تاریخی ’زمین کسان کو‘ اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’شیخ صاحب کا قانون زمین کسان کو دینے کا تھا، قبضہ کرنے والوں کو نہیں۔ تمہاری تجویز اس سے زمین آسمان کا فرق رکھتی ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت بے گھر لوگوں کو رہائش فراہم کرنے کے لیے پہلے سے موجود منصوبوں جیسے ’پردھان منتری آواس یوجنا‘کے تحت زمین فراہم کر رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ غیر قانونی قبضے کو انعام نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے کہا’’ہم ان لوگوں کو زمین دیں گے جن کے پاس گھر نہیں۔ لیکن جو زمین پر ناجائز قبضہ کیے بیٹھے ہیں، انہیں مفت زمین دینا ممکن نہیں‘‘۔
جب پرہ نے کہا کہ بل سے وزیر اعلیٰ کے رشتہ داروں کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے، تو عمر عبداللہ نے جواب دیا،’’میرے رشتہ دار غیر قانونی قابض نہیں تھے، ان کے پاس لیز تھی جس کی خلاف ورزی دوسری جانب سے کی گئی۔ میں اپنے رشتہ داروں کے لیے بھی ایسا بل نہیں لاؤں گا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’تم مذہب اور علاقہ کو بیچ میں لاتے ہو، جبکہ میں نے صرف یہ کہا کہ تم زمین ہتھیانے کا راستہ کھول رہے ہو‘‘۔
آخر میں جب پرہ نے بل واپس لینے سے انکار کیا تو اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے اسے ووٹنگ کے لیے رکھا، مگر صرف دو ارکان نے اس کی حمایت کی۔ بل کو آواز کی بنیاد پر مسترد کر دیا گیا۔
(ندائے مشرق خبر)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’شاہراہ کی بندش کے دوران محض ایک فیصد سیب کی پیداوار ہی پھنس گئی‘

Next Post

جموںکشمیر: تین برسوں میں دو لاکھ سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات درج

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے
اہم ترین

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

2026-06-04
شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین
اہم ترین

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

2026-06-04
 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری
اہم ترین

 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری

2026-06-04
اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط
اہم ترین

اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط

2026-06-04
ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی
اہم ترین

ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی

2026-06-04
دہشت گردی سے متعلق مقدمے  میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے
اہم ترین

دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے

2026-06-04
بی جے پی پنڈتوں کے درد کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی: کانگریس
اہم ترین

 کانگریس کا مہنگائی بے روزگاری اور  پرچہ لیک ہونے کے خلاف احتجاج

2026-06-04
وزیر اعلیٰ حکومت کو  وفاداری کی پریڈوں تک   محدود کر رہے ہیں: شرما
اہم ترین

وزیر اعلیٰ حکومت کو وفاداری کی پریڈوں تک  محدود کر رہے ہیں: شرما

2026-06-04
Next Post
دہلی میں آوارہ کتوں کے بڑھتے حملے :’ سبھی آوارہ کتوں کو رہائشی علاقوں سے دور لے کر چھوڑ دیں‘

جموںکشمیر: تین برسوں میں دو لاکھ سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات درج

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.