سرینگر/۲۳؍اکتوبر
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد جمعرات کو جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے اعلان کیا کہ اس کے تمام چھ اراکینِ اسمبلی جمعہ کو ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات میں نیشنل کانفرنس (این سی) کے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔
پارٹی نے اس فیصلے کو ’’بی جے پی کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے ایک اخلاقی مؤقف‘‘ قرار دیا۔
سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے کے پی سی سی کے صدر طارق حمید قرہ نے کہا کہ پارٹی نے بدھ اور جمعرات کو دو دور کی مشاورت کے بعد نئی دہلی میں مرکزی قیادت سے صلاح و مشورہ کرکے یہ فیصلہ حتمی بنایا۔
قرہ نے کہا، ’’ہم نے ایک مصیبت زدہ ریاست ہونے کے ناطے اپنی حساسیتوں اور ایک پْرخلوص سیکولر جماعت ہونے کے ناتے یہ طے کیا ہے کہ نیشنل کانفرنس کے ساتھ موجود اختلافات کو وقتی طور پر پسِ پشت ڈال کر اپنی اقدار کے تئیں عہدبستگی کو ثابت کریں۔‘‘
کانگریسی لیڈر نے کہا کہ کانگریس نے سیٹ شیئرنگ اور اتحاد میں ہم آہنگی سے متعلق شکایات کے باوجود ’’مصلحت کے بجائے اصول‘‘ کا راستہ اپنایا ہے۔
قرہ نے کہا، ’’اس بار راجیہ سبھا انتخابات ایک امتحان کے طور پر آئے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ نیشنل کانفرنس تمام تر لالچوں اور دباؤ کے باوجود اپنے اراکین کو متحد رکھے، اور ہم اس کیلئے اپنی مکمل حمایت پیش کرتے ہیں۔‘‘
بی جے پی کے خلاف کانگریس کی وسیع تر لڑائی کو دہراتے ہوئے قرہ نے کہا کہ پارٹی کا یہ فیصلہ جموں و کشمیر کے جمہوری اور سیکولر ڈھانچے کے تحفظ کے مقصد سے کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا، ’’یہی بڑا مقصد اور قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف ہماری لڑائی ہے، جس کی خاطر ہم نیشنل کانفرنس کی جانب سے اتحادی ہونے کے باوجود جو رویہ ہمیں ملا، اسے نظر انداز کر رہے ہیں۔‘‘
کانگریسی لیڈر نے بتایا کہ پارٹی کے تمام چھ اراکینِ اسمبلی ‘ غلام عامر، پیرزادہ محمد سعید، نظام الدین بھٹ، ایڈووکیٹ عرفان حفیظ لون اور افتخار احمد‘اس مشاورت میں شریک تھے اور انہوں نے متفقہ طور پر اس فیصلے کی توثیق کی۔
قرہ نے کہا، ’’ہم اپنے تمام معزز اراکین کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ راجیہ سبھا انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالیں۔ پارٹی وہپ بھی جاری کیا گیا ہے۔‘‘
جے کے پی سی سی کے صدر نے نیشنل کانفرنس کے امیدوار شمّی اوبرائے کی بھی تعریف کی اور کہا، ’’شمّی اوبرائے صاحب نے مذاکرات کو مفاہمت میں اور اختلافات کو مکالمے میں بدل دیا۔‘‘
قرہ نے مزید کہا کہ پارٹی جلد ہی نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے نام دو رسمی خطوط جاری کرے گی، جن میں دونوں جماعتوں کے درمیان سمجھوتے کی تفصیلات اور اتحاد کے مشترکہ وڑن کی وضاحت ہوگی۔(ندائے مشرق خبر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










