سرینگر/۲۳؍ اکتوبر
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں راجیہ سبھا انتخابات کے سلسلے میں کانگریس حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کی حمایت کر رہی ہے، جو ایک روز بعد ہونے والے ہیں۔
اتحادی جماعتوں کے درمیان اس وقت اختلافات سامنے آئے جب کانگریس نے نیشنل کانفرنس پر یہ الزام عائد کیا کہ اس نے راجیہ سبھا انتخابات میں پارٹی کو ایک محفوظ نشست دینے کے وعدے سے انحراف کیا ہے۔ بدھ کے روز کانگریس نے نیشنل کانفرنس کی طرف سے طلب کیے گئے اتحادی اراکینِ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔
فاروق عبداللہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’کانگریس ہمارے ساتھ ہے اور ہماری حمایت کرتی ہے۔‘‘
ان سے پوچھا گیا کہ نیشنل کانفرنس کے اتحادی ہونے کے باوجود کانگریس نے ابھی تک باضابطہ طور پر حمایت کا اعلان کیوں نہیں کیا، تو عبداللہ نے اعتماد سے جواب دیا کہ کانگریس ساتھ ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ خود راجیہ سبھا انتخابات میں امیدوار کیوں نہیں بنے، تو ۴۵ سالہ سیاسی کیریئر میں ۲۲سال پارلیمنٹ کے رکن رہنے والے عبداللہ نے کہا، ’’میں نے پارلیمنٹ بہت کر لی۔ اب مجھے اپنے گھر ‘جموں و کشمیر کا خیال رکھنا ہے۔ جب گھر خوشحال ہوگا تو ملک بھی خوشحال ہوگا۔ ہمیں اپنے گھر کو مضبوط بنانا ہے، اس کی مشکلات دور کرنی ہیں، اور لوگوں کو راحت پہنچانی ہے، یہی ہمارا مقصد ہے۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے صدر نے مزید کہا کہ اب وقت نوجوانوں کا ہے۔ ’’اب نوجوان پارلیمنٹ جائیں گے، وہ وہاں جا کر ہماری مشکلات بیان کریں گے۔ ہمارے ارکانِ پارلیمنٹ صرف ہمارے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ہوتے ہیں۔ انہیں ملک کے مسائل پر بھی بات کرنی ہے‘‘۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے عوام سے خریداری سے قبل ’’حلال سرٹیفیکیشن‘‘ چیک کرنے کی اپیل پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا، ’’یہ یوپی کے عوام کا معاملہ ہے، آپ کو یہ سوال ان سے پوچھنا چاہیے۔ اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ فیصلہ یوپی کے لوگ خود کریں۔‘‘
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں اتحاد اور تنوع ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جب تک ہم تنوع کو مضبوط کرتے رہیں گے، بھارت مضبوط رہے گا۔ وقت کے ساتھ سب بدلتا ہے، کوئی حکومت ہمیشہ کے لیے نہیں رہتی۔ ان کے جانے کا وقت بھی آئے گا۔ ہمیں امید نہیں چھوڑنی چاہیے، صبر و برداشت رکھنا چاہیے۔ جب تک ہم صبر سے کام لیں گے، سب ٹھیک رہے گا۔ خدا سب کا ہے، چاہے کوئی بھی مذہب ہو‘ یہی خدا کی سب سے بڑی نعمت ہے جو اس نے بھارت کو دی ہے۔‘‘
امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف پر تبصرہ کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ انہیں واپس لیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا، ’’دیکھو، امریکہ نے ہم پر کتنا زیادہ ٹیکس لگا دیا ہے۔ یہ کیا ہے؟ کیا ہم دنیا کو تباہ کرنا چاہتے ہیں؟ میں ٹرمپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ اسے واپس لے لو اور آگے بڑھو، یہ سوچ کر کہ جس خدا نے تمہیں طاقت دی ہے، وہی خدا یہ طاقت واپس بھی لے سکتا ہے۔‘‘
این سی صدر نے مزید کہا، ’’دیکھو، برطانوی سلطنت کہاں گئی؟ فارسی سلطنت، رومن سلطنت یا روسی سلطنت کہاں ہیں؟ سب ختم ہو گئیں۔ ہر سلطنت اس وقت تباہ ہوتی ہے جب اس کے اندر تکبر اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔‘‘
بجلی کے اسمارٹ میٹروں کی تنصیب پر عوامی ناراضگی کے سوال پر نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ حکومت کروڑوں روپے کی بجلی خریدتی ہے، اس لیے انہیں بجلی کا محتاط استعمال کرنا چاہیے۔ (ایجنسیاں)










