سرینگر/۲۱؍اکتوبر
امریکہ کے متعدد اتحادیوں نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں داخل ہو کر حماس کو ’بھاری فورس‘ کے ذریعے قابو میں لانے کا موقع خوش دلی سے قبول کریں گے، لیکن اس کی ضرورت ابھی نہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا’’ہماری اب عظیم اتحادی مڈل ایسٹ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں واضح اور پرجوش انداز میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اگر حماس بدتمیزی جاری رکھتا ہے اور ہمارے معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ میرے کہنے پر غزہ میں بھاری فورس کے ساتھ جا کر حماس کو قابو میں لانا چاہتے ہیں‘‘۔
امریکی صدر نے مزید کہا’’میں نے ان ممالک اور اسرائیل سے کہا’’ ‘ابھی نہیں!’ ابھی امید ہے کہ حماس وہ صحیح کرے جو کرنا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو حماس کا انجام تیز، شدید اور بے رحم ہوگا! میں ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مدد کی پیشکش کی‘‘۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور صدر کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ امن منصوبے کو مضبوط بنایا جا سکے۔
اسرائیل نے اتوار کو غزہ میں فضائی حملے کیے تھے، اس الزام کے بعد کہ حماس نے ٹرمپ کی ثالثی میں طے شدہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ حماس نے اسرائیلی الزامات کی تردید کی۔ویب ڈیسک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










