سچ تو یہ ہے کہ ایک بات جو ہماری اس نا سمجھ ، سمجھ میں نہیں آ رہی ہے اور… اور بالکل بھی نہیں آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ بڈگام میں کیا ہو گا… نہیں صاحب ہم ہار جیت کی بات نہیں کررہے ہیں‘بالکل بھی نہیں کررہے ہیں… بلکہ ہم … ہم یہ بات کررہے ہیں کہ اس حلقے کے ضمنی انتخابات میں امیدوار کس کی بات کریں … کیا بات کریں گے ‘ کیا وعدہ کریں گے… کس کا وعدہ کریں گے اور… اور یہ مشکل سبھی امیدواروں کو درپیش ہو گی… سب سے زیادہ این سی کے آغا محمود کو… اور سو فیصد ہو سکتی ہے ۔ وہ کیا ہے کہ گزشتہ سال کے اسمبلی انتخابات میں این سی نے ہول سیل میں وعدے کئے … ہر ایک حلقے میں کئے… وہ وعدے کئے جو وہ پورا کر سکتی ہے لیکن کر نہیں رہی ہے اور… اور وہ بھی جنہیں یہ کبھی پورا کر سکتی ہے… لیکن چونکہ گزشتہ سال لوگ بھی ایک فیصلہ لے چکے تھے… این سی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ سو انہوں نے این سی کو ووٹ دیا اور… اور ہول سیل میں دیا… اب ایک سال بعد صورتحال بدل گئی ہے… مکمل طور پر بدل گئی ہے… اور لوگ سمجھ گئے ہیں…وہ سمجھ گئے ہیں ‘ جو وہ گزشتہ سال اسمبلی الیکشن کے وقت سمجھ نہیں گئے تھے… اس لئے این سی کے امیدوار اب کی بار لوگوں کو کیا سمجھائیں گے ہم نہیںجانتے ہیں … بالکل بھی نہیں جانتے ہیں… لیکن صاحب بات این سی کی ہی نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے کہ پی ڈی پی بھی جنگل سے باہر نہیں آئی ہے… ابھی نہیں آئی ہے اور… اور لوگ جانتے ہیں… وہ سب جانتے ہیں جو اس جماعت نے کیا … ماضی میں کیا اور جن کے ساتھ مل کر کیا اور… اور جن کے ساتھ مل کر دیا … اللہ میاں کی قسم ان کی تو ضمانت ضبط ہو جائیگی… لیکن… لیکن ان کی بہادری کی تعریف کئے بغیر ہم نہیں رہ سکتے ہیں… کہ … کہ وہ پھر بھی اتریں ہیں… میدان میں اتریں ہیں‘ ہارنے کیلئے ہی سہی ‘ لیکن اتریں ہیں… کہ کم از کم ان کے پاس تو لوگوں کو کہنے کیلئے بالکل بھی کچھ نہیں ہے… این سی کے پاس سی ایم صاحب ہیں ‘ جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں… پی ڈی پی کے پاس میڈم جی ہیں جو ایک غضب کی اداکارہ ہیں… لیکن بی جے پی کے پاس کچھ نہیں ہے… کہنے کیلئے اور نہ دکھانے کیلئے ۔ ہے نا؟




