بھونیشور، 16 اکتوبر (یو این آئی) اڈیشہ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ بدعنوانی کے الزامات میں قصوروار قرار دیے گئے سرکاری ملازمین اس وقت تک پنشن بحالی کے حقدار نہیں ہیں، جب تک کہ انہیں متعلقہ مقدمے میں عدالتِ عالیہ سے بری نہ کر دیا جائے ۔
جسٹس آر کے پٹنایک نے اپنے فیصلے میں کہا، ”جب کسی سرکاری ملازم کو بدعنوانی کے الزام میں مجرم قرار دیا جائے اور وہ سزا کے خلاف اپیل کرے ، تو صرف اپیل دائر کرنے سے وہ پنشن کی بحالی کا حقدار نہیں ہو جاتا ہے ۔”
انہوں نے مزید کہا کہ قواعد و ضوابط میں عدالتی کارروائی کی جو تعریف طے کی گئی ہے ، اس کے علاوہ کوئی دوسری تعبیر غیر منطقی ہوگی اور قانون کے مقصد کو بے معنی بنا دے گی۔
غور طلب ہے کہ درخواست گزاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کی فوجداری اپیلوں کے فیصلے آ جانے تک انہیں عارضی پنشن بحالی کی اجازت دی جائے ۔
یہ درخواست گزار انسدادِ بدعنوانی قانون کے تحت مجرم قرار دئے گئے ہیں اور ان کی سزا کے خلاف اپیلیں عدالت میں زیرِ سماعت ہیں۔ عدالت نے اس بات کی جانچ کی کہ ایسے قصوروار افسران اپیلوں کے زیرِ التوا رہنے کے دوران پنشن کے مستحق ہیں یا نہیں؟ جانچ کے بعدعدالت نے واضح کیا کہ محض اپیل دائر کرنے اور سزا پر عمل درآمد رک جانے سے پنشن کی بحالی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
درخواست گزاروں کو 2017 سے پنشن نہیں ملی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ پنشن کی بحالی ان کی اپیلوں کے فیصلے پر منحصر ہے ۔ اگر وہ چاہیں تو سزا کی معطلی کی درخواست دے سکتے ہیں، خاص طور پر جب عارضی پنشن 2017 میں ہی روک دی گئی تھی، لیکن چونکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا، اس لیے اب وہ اس کے اہل نہیں ہیں۔
جسٹس پٹنایک نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا، ”عدالت اس دلیل کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے کہ اپیلوں کا زیرِ التوا رہنا عدالتی کارروائی کے جاری رہنے کے مترادف ہے ۔”
آخر میں عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ حکومت کی جانب سے درخواست گزاروں کی عارضی پنشن روکنے کا فیصلہ قانونی طور پر درست ہے ۔








