کانگریسی قیادت کی کمزوری نے دہشت گردوں کا حوصلہ بڑھایا اور بھارت کی سلامتی کو کمزور کیا:وزیر اعظم
سرینگر/۸؍اکتوبر
کانگریس پر سخت تنقید اور اس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم کے بیان کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اپوزیشن جماعت نے ۲۶/۱۱(ممبئی حملوں) حملوں کے بعد پاکستان کے خلاف جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی دباؤ میں کیا۔
حال ہی میں ایک انٹرویو میں، چدمبرم‘ جنہوں نے ۲۰۰۸ کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد بطور وزیر داخلہ ذمہ داری سنبھالی تھی ‘ نے کہا کہ وہ پاکستان کے خلاف جوابی کارروائی کے حق میں تھے لیکن حکومت نے عالمی دباؤ کے باعث جنگ شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
کانگریس رہنما نے مزید بتایا کہ اْس وقت کی امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس بھی دہلی آئیں اور اْن سے اور وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کر کے بھارت کو فوجی کارروائی نہ کرنے کا مشورہ دیا۔
بدھ کے روز نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے افتتاح کے موقع پر، وزیر اعظم مودی نے چدمبرم کا نام لیے بغیر اْن کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ممبئی، جو بھارت کا اقتصادی دارالحکومت ہے‘۲۰۰۸ میں نشانہ بنایا گیا، لیکن کانگریس کی قیادت والی حکومت نے کمزوری اور دہشت گردی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا پیغام دیا۔
ان کاکہنا تھا’’ایک سینئر کانگریس لیڈر، جو بھارت کے وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں، نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ ۲۶/۱۱ کے بعد بھارتی افواج پاکستان پر حملہ کے لیے تیار تھیں۔ ملک بھی یہی چاہتا تھا، لیکن اگر اْس لیڈر کی بات درست ہے تو حکومت نے کسی دوسرے ملک کے دباؤ میں فوج کو حملے سے روک دیا‘‘ ۔
وزیر اعظم نے کہا’’کانگریس کو بتانا ہوگا کہ بین الاقوامی دباؤ میں یہ فیصلہ کس نے لیا۔ کانگریس کی کمزوری نے دہشت گردوں کا حوصلہ بڑھایا اور بھارت کی سلامتی کو کمزور کیا، اور ملک نے اس کی قیمت بار بار قیمتی جانوں کی صورت میں چکائی‘‘۔
ملک کی سلامتی اور عوام کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آج کا بھارت ’’گھر میں گھس کر مارنے‘‘ پر یقین رکھتا ہے۔
پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت کے جوابی اقدام ’آپریشن سندور‘،جس میں پاکستان میں لشکرِ طیبہ کے مرکز مریدکے اور جیشِ محمد کے ہیڈکوارٹر بہاولپور سمیت دہشت گردی کے ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا ‘کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’’دنیا اب سمجھ چکی ہے کہ بھارت بدل چکا ہے۔‘‘
اس سے پہلے وزیر اعظم نے۱۹ہزار۶۵۰کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے (این ایم آئی اے ) کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا۔
یہ منصوبہ ہندوستان کے ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے میں ایک نمایاں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ممبئی کے موجودہ ہوائی اڈے پر بڑھتی ہوئی بھیڑ کو کم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے ۔
گرین فیلڈ پروجیکٹ کے تحت قائم یہ نیا ہوائی اڈہ ابتدائی طور پر سالانہ ۲۰ملین مسافروں کو سہولت فراہم کرے گا اور یہ ہندوستان کا پہلا مکمل ڈیجیٹل ہوائی اڈہ ہوگا، جہاں بغیر کاغذ کے سفر کے تجربے کے لیے ڈیجی یاترااور مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ نظام استعمال کیے جائیں گے ۔
زاہا حدید آرکیٹیکٹس کے ڈیزائن کردہ اس ہوائی اڈے کا ٹرمینل کمل کے پھول سے متاثر ہے ، جو جدید فنِ تعمیر اور پائیداری کا امتزاج پیش کرتا ہے ۔ اس میں ۴۷میگاواٹ شمسی توانائی کی پیداوار، برقی گاڑیوں کے آپریشنز، اور پائیدار ایوی ایشن فیول کے لیے مخصوص اسٹوریج کی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔
پروجیکٹ کے مکمل ہونے پر ہوائی اڈے میں چار ٹرمینلز اور دو رن وے ہوں گے ، جو سالانہ۹۰ملین مسافروں اور۲۵ء۳ملین میٹرک ٹن کارگو کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی سے آراستہ ہوگا جس میں ایکسپریس ویز، میٹرو لائنیں، مضافاتی ریل اور واٹر ٹیکسی سروس شامل ہوں گی، جس سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا مربوط ہوا بازی مرکز بن جائے گا۔
نوی ممبئی ایئرپورٹ کی تکمیل کے بعد اس سے دو لاکھ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے ، جو ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کی معیشت کو نئی رفتار دے گا۔ انڈیگو، ایئر انڈیا اور اکاسا ایئر اس ہوائی اڈے سے کام کرنے والی پہلی ایئر لائنز ہوں گی، جبکہ کمرشل آپریشنز دسمبر۲۰۲۵ میں شروع کیے جانے کا امکان ہے ۔(ندائے مشرق ڈیسک)










