بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جمعہ کو ایک بار پھر کانگریس لیڈر راہل گاندھی پر بیرون ملک جا کر ملک کی شبیہ خراب کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو ترویدی نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے یہ الزام لگایا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ قائد حزب اختلاف کے طور پر مسٹر گاندھی کا عہدہ ہندوستان کے لیے ایک کانٹا ہے۔
ترویدی نے کہا کہ گزشتہ 36 گھنٹوں میں ملک میں دو طرح کے مناظر دیکھے گئے ہیں۔ سب سے پہلے، دنیا کی سب سے بڑی ثقافتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے صد سالہ سال کی ملک گیر تقریبات، جو 100 برسوں سے لگاتار ملک کیلئے کام کر رہی ہے۔ اس صد سالہ سال کے موقع پر
تاریخ میں پہلی بار وزیر اعظم نریندر مودی نے مادر ہند کی تصاویر کے ساتھ 100 روپے کا یادگاری سکہ جاری کیا۔ دوسری جانب ملک کی 140 سال پرانی جماعت کے سربراہ نے غیر ملکی سرزمین سے ایک اور ملک دشمن بیان جاری کر دیا ہے جس میں کوئی حیران کن بات نہیں۔
بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ جنوری 2023 میں’ گلوبل ٹائمز’ نے کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں میں ہندوستان کی معیشت میں تیزی سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات نے اسے بہت طاقتور بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کانگریس لیڈر مسٹر گاندھی جب بیرون ملک سفر کرتے ہیں تو وہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان کی ڈجیٹل تبدیلی پر دسمبر 2024 کی کیمبرج یونیورسٹی کی کیس اسٹڈی کو کیوں نہیں دیکھتے ہیں اور نہ ہی اسٹینفورڈ کے ذریعہ تیار کردہ مصنوعی ذہانت (اے ا?ئی) انڈیکس دیکھتے ہیں، جس کے مطابق ہندوستان اے ا?ئی مہارتوں کی سرمایہ کاری میں پہلے نمبر پر ہے اوراے ا?ئی چار اہم ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی اسی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کا دورہ کرتے ہیں اور ہندوستان کے بارے میں بدسلوکی، توہین ا?میز اور بے معنی تبصرہ کرتے ہیں۔
بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ دوسرا سوال یہ ہے کہ کانگریس لیڈر کے پاس کون سی قابلیت ہے جو اسے غیر ملکی یونیورسٹیوں میں مدعو کرنے کی ضمانت دیتی ہے، جب کہ کانگریس پارٹی کچھ ذہین افراد پر فخر کرتی ہے، جنہیں مدعو نہیں کیا جاتا۔ ترویدی نے کہا کہ چونکہ مسٹر گاندھی کو کسی ہندوستانی یونیورسٹی میں مدعو نہیں کیا جاتا ہے، اس لیے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں ہندوستان سے باہر کیوں مدعو کیا جاتا ہے۔










