چنڈی گڑھ، 30 ستمبر (یو این آئی) کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمان کماری شیلجہ نے کہا ہے کہ حکومت جی ایس ٹی (اشیاء و خدمات ٹیکس) کی شرحوں میں کمی کو بڑی راحت بتا رہی ہے ، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ڈبہ بند غذائی اجناس اور ضروری دوائیں آج بھی پرانے داموں پر فروخت ہو رہی ہیں۔
کماری شیلجہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 22 سے 28 ستمبر تک ‘جی ایس ٹی بچت میلہ’منایا اور ارکان پارلیمان بازاروں میں پیدل چل کر عوام کو فائدے گنوا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں 47 فیصد صارفین کو ڈبہ بند غذائی اجناس پر کوئی راحت نہیں ملی، الیکٹرونکس میں صرف 34 فیصد کو فائدہ ہوا اور دواؤں کی قیمتیں کمپنیاں پرانے سطح پر ہی رکھے ہوئے ہیں۔ جی ایس ٹی میں کمی کا فائدہ نہ ملنے کی 78 ہزار سے زیادہ شکایات درج ہو چکی ہیں۔
کماری شیلجہ نے الزام لگایا کہ کتابوں پر ٹیکس کم کرنے کا دعویٰ کیا گیا، لیکن ایسا ممکن نہیں ہو رہا۔ یہ اقدام عوام کے لیے راحت کے بجائے بوجھ ثابت ہو رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کئی منڈیوں میں دھان اور باجرے کی خریداری شروع نہ ہونے سے کسان پریشان ہیں۔ بھِوانی، ریواڑی، امبالہ اور ہِسار سمیت کیتھل ضلع میں کسان دھرنے پر بیٹھ گئے ۔ ان کا الزام ہے کہ سرکاری خریداری نہ ہونے کے سبب انہیں فصل تاجروں کو بہت کم دام پر بیچنی پڑ رہی ہے ۔








