شیلانگ، 25 ستمبر (یو این آئی) میگھالیہ کے نائب وزیر اعلیٰ اور محکمہ داخلہ کے انچارج پرسٹون تن سانگ نے ریاست میں نسلی بنیادوں پر قیادت میں تبدیلی کے ہینی وٹریپ انٹیگریٹڈ ٹیریٹوریل آرگنائزیشن ( ایچ آئی ٹی او) کے مطالبے کو فرقہ وارانہ قرار دیا ہے ۔
مسٹر تن سانگ نے کہا،جب تک ہم میگھالیہ میں ہیں ہم میگھالیہ کے ایم ایل اے ہیں۔ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وزیر اعلیٰ کون ہے ۔ ہمارے لیے جو اہم ہے وہ ہے ریاست کی ترقی اور مفادات برقرار رہیں۔ انہوں نے مزید کہا اگر آپ کہتے ہیں کہ وہ مغربی بنگال، بنگلہ دیش یا آسام سے وزیر اعلیٰ لا رہے ہیں تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں بھی اس کے خلاف ہوں۔ غور طلب ہے کہ میگھالیہ میں ایک پریشر گروپ ایچ آئی ٹی او نے حال ہی میں وسط مدتی انتخابات میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ گارو اور خاصی برادریوں کے درمیان بانٹنے کا مطالبہ کیا تھا۔
چیف منسٹر کونراڈ سنگما کے نام ایک کھلے خط میں ایچ آئی ٹی او کے صدر ڈون بوک ڈکھر نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنی سیٹ خالی کر دیں اور اپنا عہدہ اپنے دو نائبین میں سے کسی ایک کو سونپ دیں، تاکہ توازن اور انصاف کے اصول کو برقرار رکھا جا سکے جس کا انہوں نے کابینہ میں ردوبدل کرتے وقت حوالہ دیا تھا۔
ایچ آئی ٹی او کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئے مسٹر تن سونگ نے کہا، مجھے اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم چیزوں کو فرقہ وارانہ نہیں بنانا چاہتے ۔ میرے خیال میں ہمیں اس بارے میں بالکل بھی بات نہیں کرنی چاہیے ۔ مسٹرتن سونگ نے حکمراں نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) کے اندر دراڑ کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا،این پی پی خاندان میں ایک خراش تک نہیں ہے ۔ میں اسے سیاسی جماعت بھی نہیں کہتا، میں اسے این پی پی خاندان کہتا ہوں۔ مجھے یاد ہے جب میں کانگریس میں تھا، آپس میں لڑائی ہوئی تھی۔ لیکن این پی پی میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔








