جموں کشمیر کی سیاست ہمیشہ سے پیچیدہ رہی ہے۔ یہاں کے عوام نے دہائیوں تک ایک ایسے سیاسی کلچر کو برداشت کیا ہے جس میں زیادہ زور ایک دوسرے پر سبقت لینے، الزام تراشی کرنے اور اقتدار کی کشمکش پر رہا ہے۔ لیکن وقت بدل رہا ہے، حالات کی نوعیت بھی مختلف ہو چکی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ حقیقت اب ناقابلِ تردید ہے کہ جموں و کشمیر کی حیثیت ایک یونین ٹیریٹری کی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وزیر اعلیٰ اور ریاستی حکومت کے اختیارات پہلے کی نسبت محدود ہو گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ان کے اختیارات محدود ہیں اور اس وجہ سے وہ ہر مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعلیٰ صرف اس بنیاد پر اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر سکتے ہیں؟ کیا وہ عوام کو یہ کہہ کر مطمئن کر سکتے ہیں کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، لہٰذا وہ کچھ نہیں کر سکتے؟ ہرگز نہیں۔ عوام نے انہیں اس لیے منتخب نہیں کیا کہ وہ اختیارات کی کمی کا رونا روتے رہیں بلکہ اس لیے منتخب کیا کہ وہ اپنی بساط کے مطابق بہتر سے بہتر خدمت انجام دیں۔
عوامی نمائندوں کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب حالات ناموافق ہوں اور راستے مسدود دکھائی دیتے ہوں۔ اگر وزیر اعلیٰ کے پاس اختیارات کم ہیں تو بھی کچھ ایسے دائرے ضرور موجود ہیں جہاں وہ اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ عوامی رابطے کو مؤثر بنانا، چھوٹے پیمانے پر ترقیاتی کام شروع کرنا، بیوروکریسی کو جواب دہ بنانا، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں بنیادی اصلاحات لانا، اور سب سے بڑھ کر عوام میں یہ اعتماد پیدا کرنا کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے‘یہ سب اقدامات کسی بڑے اختیار کے بغیر بھی ممکن ہیں۔ عمر عبداللہ کو یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ عوام ان سے خوابوں کے محل تعمیر کرنے کی توقع نہیں رکھتے، لیکن وہ یہ ضرور چاہتے ہیں کہ حکومت چھوٹے چھوٹے مسائل پر فوری ردعمل دے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا کردار بھی زیرِ بحث آتا ہے۔ پی ڈی پی جانتی ہے کہ یونین ٹیریٹری کے نظام میں وزیر اعلیٰ کا دائرہ کار محدود ہے۔ اس کے باوجود وہ عمر عبداللہ اور ان کی حکومت کو اس انداز میں تنقید کا نشانہ بناتی ہے جیسے تمام مسائل کی جڑ صرف وزیر اعلیٰ کی نااہلی ہو۔ یہ رویہ دراصل عوام کو حقیقت سے دور لے جانے کے مترادف ہے۔ اپوزیشن کا کام صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ متبادل پالیسیاں اور تجاویز سامنے لانا بھی ہے۔ اگر پی ڈی پی اپنی توانائی صرف حکومت کو ناکام ثابت کرنے پر صرف کرے گی تو عوام کے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اپوزیشن کی سخت بیانات بازی وقتی طور پر عوامی جذبات کو ضرور بھڑکا سکتی ہے، مگر طویل المدتی طور پر اس کا نقصان خود عوام کو ہوتا ہے۔ عوامی مسائل پر سیاست کرنا، عوامی مسائل حل کرنے سے بالکل مختلف بات ہے۔ لوگ صرف نعرے نہیں چاہتے، وہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ روزگار کی فراہمی، تعلیم کے معیار میں بہتری، صحت کے شعبے کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سیاحت کے فروغ جیسے امور وہ ہیں جو کشمیری عوام کے روزمرہ کی زندگی پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ ان مسائل پر حکومت اور اپوزیشن کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
سیاسی جماعتوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ عوام میں سیاست کے تئیں مایوسی کی ایک بڑی وجہ یہی مسلسل الزام تراشی ہے۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ حکمران جماعت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے سوا کچھ نہیں کر رہیں تو ان کا اعتماد سیاسی عمل سے اٹھنے لگتا ہے۔ یہ مایوسی سب سے زیادہ نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے جو پہلے ہی بے روزگاری اور غیر یقینی مستقبل سے دوچار ہیں۔ ایسے میں سیاسی قیادت کو زیادہ ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
عمر عبداللہ اگر یہ کہتے ہیں کہ ان کے اختیارات محدود ہیں تو اس میں شک نہیں کہ وہ سچ بولتے ہیں۔ لیکن ایک سچے رہنما کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ رکاوٹوں کے باوجود راستہ تلاش کرے۔ عوامی خدمت کے بے شمار ایسے پہلو ہیں جو بڑے اختیارات کے بغیر بھی انجام دیے جا سکتے ہیں۔ عوام کو یہ پیغام ملنا چاہیے کہ ان کا وزیر اعلیٰ ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق پوری کوشش کر رہا ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ کشمیر کے عوام اس وقت چاہتے کیا ہیں؟ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو بہتر تعلیم ملے، ان کے مریضوں کو ہسپتال میں دوائیں اور سہولیات میسر ہوں، ان کے نوجوانوں کو روزگار ملے، اور ان کے علاقوں میں بجلی و پانی کی فراہمی بہتر ہو۔ یہ وہ بنیادی تقاضے ہیں جن پر سیاست کو مرکوز ہونا چاہیے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں ان حقیقی مسائل پر غور کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کی سیاست ایک نئی سمت اختیار کرے۔ حکمران جماعت نیشنل کانفرنس اور اپوزیشن پارٹی پی ڈی پی دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی مسائل کو پسِ پشت ڈال کر سیاست کرنے کا زمانہ گزر گیا۔ عوام اب نتائج چاہتے ہیں، محض بیانات نہیں۔
عمر عبداللہ کو چاہیے کہ وہ محدود اختیارات کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور عوامی اعتماد کو قائم رکھنے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کریں۔
کشمیر کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ الزام تراشی سے نہیں بلکہ تعاون اور تعمیری سوچ سے ہو کر گزرتا ہے۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی اگر یہ حقیقت سمجھ جائیں تو نہ صرف اپنی ساکھ بحال کر سکتے ہیں بلکہ عوام کو بھی یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ ان کی سیاست کا محور واقعی عوامی خدمت ہے، نہ کہ اقتدار کی رسہ کشی۔ یہی وہ رویہ ہے جو کشمیر کو ایک بہتر کل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





