نہیں صاحب ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں … بالکل بھی نہیں کہہ رہے ہیں کہ سرینگر جموں شاہراہ کی بندش میں حکومت کا کوئی رول ہے ۔اس کی … حکومت کی سنی جائے تو … تو اس کا تو کوئی کہیں رول ہی نہیں ہے کہ ایک سال سے حکومت میں ہونے کے بعد بھی اس کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ… کہ اس کا کہیں رول ہے بھی یا رول سکتا ہے … ہمیں امید ہے کہ جس طرح یہ ایک سال اسے اپنے رول کی تلاش میں اس کے ہاتھوں سے نکلتا جارہا ہے … آئندہ چار سال بھی ایسے ہی اس کی مٹھی سے کھسک جائیں گے اور… اور یہ ڈھونڈتی رہے گی… اپنا رول … وہ رول جو کبھی اس کا تھا ہی نہیں … جو کبھی اس کیلئے لکھا ہی نہیں گیا…بالکل اسی طرح جس طرح سرینگر جموں شاہراہ کی بندش میں اس کا کوئی رول نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… یہ تو اللہ میاں کے فیصلے ہیں… سونم لوٹس کے نہیں … بالکل بھی نہیں ۔ اس لئے صاحب کشمیر کے فروٹ گروروں کی ہڑتال… اپنی میوہ منڈیوں کو شاہراہ کی بندش کیخلاف بند رکھنے کا فیصلہ … ہمارے سر کے اوپر سے جارہا ہے… اس لئے جا رہا ہے کیوں کہ… کہ ہم ابھی یہ طے نہیں کر پا رہے ہیں کہ… کہ فروٹ گروور… کشمیر کے فروٹ گروور کس کیخلاف ہڑتال پر ہیں… کیا سمجھ کر ‘ کیا سوچ کر وہ ہڑتال کررہے ہیں… کہ… کہ اگر ان کی یہ ہڑتال … دو روزہ ہڑتال … اپنے وزیر اعلیٰ اور ان کی ’حکومت‘ کیخلاف کی ہے اور… اور وہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ان کی ہڑتال سے ان کا مسئلہ حل ہو جائیگا اور… اور سرینگر جموں شاہراہ پر ان کی سیبوں سے لدی ٹرکوں کو کہیں روکا نہیں جائیگا … ان کے ڈرائیوروں کو ٹوکا نہیں جائیگا… انہیں ترجیحی بنیادوں پر آگے جانے دیا جائیگا … ان کیلئے کوئی خصوصی گلیارہ بنائیگا… اور یہ سب کام اپنے وزیر اعلیٰ کریں گے… یا وہ یہ کام کرنے چاہئیں تو… تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں… کچھ بھی نہیں کہہ سکتے ہیں سوائے اس ایک بات کے کہ… کہ یہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ زبردستی ہو رہی ہے… اور ہاں زیادتی بھی … اس لئے ہو رہی ہے کہ فروٹ گروور انہیں وہ رول دینا چاہتے ہیں جو وہ لینے کیلئے تیار ہی نہیںہیں… بالکل بھی نہیں ہیں… ویسے آپس کی بات ہے کیا وہ … اپنے وزیر اعلیٰ کوئی بھی رول لینے کیلئے تیار ہیں؟… ہے نا؟




