نئی دہلی، 05 ستمبر (یواین آئی) کیرالہ کانگریس نے گڈس اینڈ سروسز-جی ایس ٹی میں بیڑی پر دی گئی چھوٹ کو بہار انتخابات سے جوڑتے ہوئے ایک تبصرہ کیا، جس کی وجہ سے کافی سیاست شروع ہوئی اور آخر کار ریاستی کانگریس کو اس کے لیے معافی مانگنی پڑی۔ ساتھ ہی کیرالہ کانگریس نے بھی اپنا پوسٹ بھی ہٹا دیا ہے ۔
بیڑی پر جی ایس ٹی کو 28 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کے مرکز کے فیصلے پر کیرالہ کانگریس کو شاید لگا تھا کہ یہ چھوٹ بہار میں تندو پتی کارکنوں کو خوش کرنے اور ان کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے دی گئی ہے ، لیکن جب اس کے اس بیان پر کافی سیاست شروع ہوئی تو ریاستی کانگریس کو نہ صرف اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑا بلکہ بہار کے عوام سے معافی بھی مانگنی پڑی۔
کیرالہ کانگریس نے معافی مانگتے ہوئے کہاکہ "ہم دیکھ رہے ہیں کہ جی ایس ٹی کی شرحوں کے حوالے سے مودی کے انتخابی ہتھکنڈوں پر ہمارے طنز کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ اگر آپ کو تکلیف پہنچی ہے تو ہم معذرت خواہ ہیں۔”
سوشل میڈیا پر کیرالہ کانگریس نے جی ایس ٹی اصلاحات پر اپنے متنازعہ بیان میں کہا تھاکہ "بیڑی اور بہار بی سے شروع ہوتے ہیں۔ اب اسے پاپ نہیں سمجھا جا سکتا”۔ اس پوسٹ پر تنازع کے بعد اس پوسٹ کو ہٹا دیا گیا۔
اس بیان پر کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ بہار کے عوام ان لوگوں کو سبق سکھائیں گے جو بہار اور اس کے وقار کو ٹھیس پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔










