نئی دہلی، 29 اگست (یو این آئی) سپریم کورٹ نے لمباڑی، سُگالی اور بنجارہ برادری کو دئیے گئے درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے درجے کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر مرکز کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی ہے ۔
جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس وجے بشنوئی کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے مرکز کے ساتھ ساتھ تلنگانہ حکومت کو بھی نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی۔ اس مقدمے میں تلنگانہ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے ۔ عرضی گزاروں کی طرف سے سینئر وکیل داماشیشادری نائیڈو اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے ۔
یہ عرضی گزار کویا برادری کا رکن ہے ۔ اس نے آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ایک رِٹ پٹیشن دائر کی تھی، جس میں لمباڑی، سُگالی اور بنجارہ برادری کو ایس ٹی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دینے کی مانگ کی گئی تھی۔
عرضی گزاروں نے دلیل دی کہ ان برادریوں کو ایس ٹی فہرست میں شامل کرنا آئین کے آرٹیکل 342 کے تحت طے شدہ دستوری عمل کی خلاف ورزی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شمولیت نے کویا برادری کی تعلیم، روزگار اور انتخابی مواقع میں ریزرویشن کے فوائد کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ:عرضی گزاروں کو ریزرویشن کے فوائد حاصل کرنے میں ان ایس ٹی امیدواروں کے مقابلے بہت کم حصہ مل رہا ہے ۔ اس وجہ سے انہیں تعلیمی، معاشی اور سماجی سطح پر بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔










