نئی دہلی، 27 اگست (یو این آئی)امریکہ نے بدھ سے ہندوستانی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی درآمدی محصول کا اطلاق کر دیا ہے ، جس سے امریکہ میں خاص طور پر ہندوستان کی الیکٹرانکس اشیاء، ٹیکسٹائل اور کیمیکل سیکٹر کے لیے مسابقتی چیلنج بڑھ گیا ہے ۔ یہ نیا ٹیکس روس سے ہندوستان میں خام تیل کی درآمد کو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بتا کر لگایا گیا ہے اور یہ اس مہینے کے آغاز میں لگائے گئے پہلے کے 25 فیصد ٹیکس کے علاوہ ہے ۔
امریکی حکومت نے پیر کے روز 27 اگست سے ہندوستانی مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگانے سے متعلق نوٹس جاری کیا تھا، جو ہندوستانی وقت کے مطابق بدھ صبح 9:31 بجے سے نافذ العمل ہو گیا۔ اس حکم پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اگست کے پہلے ہفتے میں دستخط کیے تھے ۔
ہندوستانی مصنوعات پر امریکہ میں 25 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کا پہلا فیصلہ 7 اگست سے نافذ کیا گیا تھا۔
ہندوستان کی وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں امریکہ کو ہندوستان سے
آج سے ہندوستانی مصنوعات پر مجموعی طور پر 50 فیصد درآمدی ٹیکس نافذ ہونے کے باعث، ہندوستانی کمپنیوں کے لیے دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں مقابلہ کرنا دیگر ممالک کی بہ نسبت زیادہ مشکل ہو گیا ہے ۔
البتہ اسمارٹ فون اور ادویات ان مخصوص مصنوعات میں شامل ہیں جنہیں اضافی ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے ۔
وزیراعظم نریندر مودی نے واضح طور پر کہا ہے کہ حکومت امریکی درآمدی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گی اور کسی بھی صورت میں کسانوں، مویشی پالنے والوں اور ماہی گیروں کے مفادات سے سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق آج سے نافذ ہونے والا ٹیکس، ہندوستان کی جانب سے روس سے بڑے پیمانے پر خام تیل خریدنے کی سزا کے طور پر لگایا گیا ہے ۔
کریسل (سی آر آئی ایس آئی ایل) نامی مارکیٹ ریسرچ اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق، 50 فیصد درآمدی ٹیکس سے گارمنٹس، جواہرات، کیمیکل اور آٹو پارٹس برآمد کرنے والوں پر سب سے زیادہ اثر پڑے گا۔
گزشتہ مالی سال میں ملبوسات کی صنعت نے تقریباً 16 ارب ڈالر کی برآمد کی تھی، جس میں سے ایک تہائی امریکہ کو برآمد کی گئی تھی۔
اب 50 فیصد ٹیکس لگنے سے ہندوستان کی مصنوعات چین، بنگلہ دیش اور ویتنام کے مقابلے میں کم مسابقتی ہو جائیں گی ۔
کریسل کا اندازہ ہے کہ گارمنٹس کی کل برآمدات میں امریکہ کی حصہ داری 33 فیصد سے کم ہو کر 20 سے 25 فیصد کے درمیان آ سکتی ہے ۔
ایجنسی کا یہ بھی اندازہ ہے کہ کیمیائی، سمندری خوراک اور آٹو پارٹس کی برآمد میں 19 ارب ڈالر کی کمی ہو سکتی ہے ۔
امریکہ کو برآمدات میں جو بھی کمی آئے گی، ہندوستانی کمپنیوں کو اس کی تلافی کے لیے نئے بازار تلاش کرنے ہوں گے [؟] چاہے وہ داخلی ہوں یا بیرونی۔










