نئی دہلی، 25 اگست (یو این آئی) سپریم کورٹ نے قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے ) کی اس اپیل کو مسترد کر دیا ہے جس میں کرناٹک ہائی کورٹ کے ذریعے ‘الہند’ تنظیم سے تعلقات کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون (یو اے پی اے ) کے تحت ملزم سلیم خان کو ضمانت دینے کے حکم کوچیلنج کیا گیا تھا۔
جج وکرَم ناتھ اور جج کے وی وشوناتھن کی بنچ نے کہا کہ چونکہ ‘الہند’ کا نام یو اے پی اے کے تحت ممنوعہ تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے ، اس لیے اس کی میٹنگز میں شرکت کرنا کوئی جرم نہیں سمجھا جائے گا۔
عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ نے سلیم خان کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ چارج شیٹ میں لگائے گئے الزامات ‘ال-ہند’ نامی تنظیم سے متعلق ہیں جو یقینی طور پر یو اے پی اے کے تحت میں ممنوعہ تنظیم نہیں ہے ۔ اس لیے یہ کہنا کہ وہ مذکورہ تنظیم ‘ال-ہند’ اور دیگر میٹنگز میں شریک تھا، کوئی جرم نہیں سمجھا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی طرف سے محمد سلیم خان کو ضمانت دیے جانے کے ساتھ ساتھ محمد زید کو ضمانت نہ دینے کے فیصلے کی بھی حمایت کی۔
سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کو کارروائی میں تیزی لانے کا حکم دیا اور مقدمے کو مکمل کرنے کے لیے دو سال کی مدت مقرر کی۔ بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ ملزمین کو غیر معینہ مدت تک زیرِ حراست قیدی نہیں رکھا جا سکتا۔










