نئی دہلی، 20 اگست (یو این آئی)راجیہ سبھا نے آسام کی راجدھانی گوہاٹی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم)قائم کرنے سے متعلق انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ(ترمیمی) بل 2025 کو بدھ کے روز اپوزیشن کے واک آؤٹ کے دوران اتفاق رائے سے منظوری دے دی۔ اس سے پہلے لوک سبھا نے بھی اس بل کو منظور دے دی تھی، جس کے بعد مذکورہ بل پارلیمنٹ میں منظور کرلیا گیا۔
اپوزیشن کے ارکان نے بہار میں ووٹر فہرست کی خصوصی جامع نظر ثانی کے موضوع پر بحث کرانے کی درخواست کی تھی، جسے مسترد کر دیے جانے پر انہوں نے شدید ہنگامہ کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ اس وجہ سے اجلاس کو دو بار ملتوی کرنا پڑا۔
نائب چیئرمین بھونیشور کلیتَا نے دوپہر دو بجے اجلاس شروع کیا اور وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان سے بل پر بحث اور منظوری کے لیے کہا۔ جیسے ہی وزیر موصوف نے اپنی تقریر شروع کی، اپوزیشن نے دوبارہ ووٹر فہرست کے مسئلے پر بحثکا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی شروع کر دی۔ اپوزیشن کے رہنما ملکارجن کھڑگے کو بھی اس موضوع پر اظہار خیال کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے بعد اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
بل پر مختصر بحث اور وزیر تعلیم کے جواب کے بعد اسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔
بل کے اہم نکات میں گوہاٹی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کے قیام سے متعلق شق شامل ہے ۔ انسٹی ٹیوٹ کے پہلے بورڈ آف گورنرزکے قیام تک اس کا کا م کاج مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ شخصیت سنبھالے گی ۔ اس انسٹی ٹیوٹ کی مجموعی لاگت تقریباً 5500 کروڑ روپے ہوگی۔










