نئی دہلی، 19 اگست (یو این آئی) ہندوستان کی اناسیویں یوم آزادی کے موقع پر پانچ دیگر پریرنا المنائی کے ساتھ ساتھ جامعہ گرلس سینیئر سیکنڈری اسکول کے زیرش اسلم کو غیر معمولی اعزاز سے سرفراز ہوئے ۔ صدر جمہوریہ ہند محترمہ درپدی مرمر کی جانب سے راشٹرپتی بھون میں مدعو کیا گیا تھا۔
جاری ریلیز کے مطابق زیرش کا تعلق قدرتی مناظرکی خوبصورتی سے بھرپور جموں کشمیر کے ضلع شوپیاں سے ہے ،انھوں نے ضلع کی سطح کے مقابلہ جاتی امتحان میں اول مقام حاصل کرکے اپنی تعلیمی قابلیت کا مظاہرہ کیا۔ اس کامیابی سے موقر پریرنا پروگرام جو کہ تجرباتی آموزش کی مدد سے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی بصیر ت پر مبنی ایک مہم ہے اس میں انتخاب کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔گجرات کے پریرنا کیمپس میں زیرش ہندوستان کی دس مختلف ریاستوں سے بیس انتہائی صلاحیت مند طلبہ کے متنوع گروپ میں شریک ہوئی ہیں جہاں وہ قائدین کی نئی ابھرتی نسل میں بنیادی افکار و تصورات پیدا کرنے اور انھیں تحریک دلانے کے مقصد سے تیار ہفتہ بھر کی انقلاب آفریں تربیتی پروگرام میں حصہ لیں گی۔
گجرات کے پریرنا ودناگر کیمپس میں بیس متنوع لوگوں پر مشتمل گروپ میں شریک ہونے کے وقت زیرش اور گروپ کے دوسرے اراکین نے لوگوں کی گرم جوشی اور ا ن کے والہانہ استقبال کویاد کیا۔جب وہ معزز اور باوقار سامعین کی محفل میں داخل ہوئے تو وہ مندوبین،وزرا اور بیرونی سفرا سے گھری ہوئے تھے ۔زیرش کوحیر ت میں ڈالنے والی چیز احساس مساوات، عزت اور شمولیت کی روح تھی۔
پروگرام کے دوران زیرش کو صدر جمہوریہ ہند سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا جنھوں نے ان سے گرم جوشی کے ساتھ ملاقات کی اور ان کی تعلیم اور پریرنا میں ان کے تجربات کے متعلق استفسار کیا۔زیرش نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی بات چیت کی جنھوں نے مسکراہٹ سے ان کا خیر مقدم کیا اور ان کے مستقبل کے منصوبوں کے متعلق پوچھا۔
زیرش نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ میرے رفقائے کار اور میں قومی ترانے کی نغمہ سرائی کے وقت ایک ساتھ کھڑے رہے اور ایک ساتھ قومی ترانہ گایا۔یہ غیر معمولی تجربہ زیرش اور ان کے ساتھ انعام یافتگان کے لیے سرچشمہ تحریک و تشویق بنا جس سے مستقبل کے رہنماؤں کو صیقل کرنے اور وکست بھارت کے تصور میں تعاون دینے کے تئیں پریرنا کے عہد کی توثیق مزید ہوتی ہے ۔اس پروگرام نے ان کی زندگیوں پر غیر معمولی اثرات چھوڑے ہیں اور انھیں افضلیت کے لیے مسلسل کوشاں رہنے کی ترغیب دی ہے اور ان کی برادریوں میں بھی اس کا مثبت اثرا پڑا ہے ۔
یونیورسٹی اور جامعہ کے اسکولوں نے اس عظیم الشان کامیابی اور اعتراف پر زیرش کو مبارک باد دی ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں بھی وہ اسکول اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی نیک نامی کا سبب بنے گیں۔









