رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون 2025) میں ہندوستان سے الیکٹرانک سامان کی برآمد 2024-25 کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 47 فیصد سے زیادہ رہی۔ جولائی میں اس شعبے کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔کامرس اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے ہفتہ کو ایک بیان میں اس کامیابی کو ملک میں مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت کے ‘میک ان انڈیا’ جیسی پہل کا نتیجہ ‘ قرار دیا۔
مسٹر گوئل نے کہا، اس پروگرام کے اثرات کے ساتھ، ہماری الیکٹرانکس کی پیداوار ایک دہائی میں غیر معمولی رفتار سے بڑھ کر 2024-25 میں 133 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو کہ 2014-15 میں 31 ارب ڈالر تھی۔وزیر تجارت نے کہا، "ہماری حکومت نے مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ہندوستان کو خود کفیل بنانے کے لیے کئی کوششیں کی ہیں۔ نتیجتاً، 2014 میں ہمارے پاس صرف دو موبائل فون مینوفیکچرنگ یونٹ تھے ، جو آج بڑھ کر 300 سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ ہم نے موبائل فون درآمد کنندہ (فون ایمپورٹر) سے دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ موبائل فون بنانے والا( موبائل مینوفیکچرنگ ) بننے تک کا تابناک سفر طے کیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرانکس کے شعبے کی توسیع نے سولر ماڈیولز، نیٹ ورکنگ آلات، چارجر اڈاپٹرز اور الیکٹرانک پرزوں کی تیاری کی سہولیات کی توسیع کے ساتھ بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق الیکٹرانک اشیاء کی برآمدات جولائی 2024 میں 2.81ارب ڈالر سے جولائی 2025 میں 33.89 ارب ڈالر بڑھ کر 3.77 ارب ڈالر ہوگئیں۔









