ہر قوم کی زبان اْس کی شناخت، تہذیب، اور فکری ارتقاء کی علامت ہوتی ہے۔ زبانیں صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ تہذیبی شعور، ادبی جمالیات، اور اجتماعی حافظے کی امین بھی ہوتی ہیں۔ اردو زبان برصغیر کی وہ خوبصورت روایت ہے جو نہ صرف ادب، شاعری اور فلسفے میں اپنی مثال آپ ہے، بلکہ تاریخ، تحریک اور تمدن کی نمائندہ بھی ہے۔
آج جب اردو زبان، بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، تو ایسے میں نیشنل بک ٹرسٹ (این بی ٹی) کے زیر اہتمام اور ’قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان‘(این سی پی یو ایل ) کے تعاون سے ہفتہ کو شروع ہوئے اردو کتب میلے کا انعقاد نہایت حوصلہ افزا اور قابلِ تعریف قدم ہے۔ یہ میلہ محض کتابوں کی فروخت کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک تحریک ہے‘ ایسی تحریک جو اردو زبان کو نئی نسل سے جوڑتی ہے، اسے علمی و ادبی روایتوں سے روشناس کرواتی ہے، اور زبان کے دامن کو زمانے کی دھول سے بچاتی ہے۔
چنار کتب میلہ ۲؍ اگست سے شروع ہوااور ۱۰؍ اگست تک جاری رہے گا جس میں ملک بھر سے ۱۳۰ سے زائد ناشرین شرکت کر رہے ہیں۔
کتب میلے کے منتظمین کاکہنا ہے کہ سال گزشتہ پہلے ایڈیشن کو زبردست عوامی پذیرائی ملی، جس کے بعد اس سال کا ایڈیشن پہلے سے کہیں زیادہ جامع، پررونق اور وسیع ہوگا۔منتظمین کے مطابق، فیسٹیول کا مقصد خطے میں مطالعے کی ثقافت کو فروغ دینا اور ایک ایسا فعال پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں علم، مکالمہ، اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
میلے میں پورے بھارت سے ۱۳۰ سے زائد ناشرین اور کتب فروش اپنے اسٹالز لگائیں گے۔ یہاں انگریزی، ہندی، اردو، کشمیری اور دیگر علاقائی زبانوں میں کتابیں دستیاب ہوں گی۔دو لسانی بچوں کی کتابوں، تعلیمی مواد، علاقائی ادب، اور ڈیجیٹل مواد کی نمائش اس میلے کو ہر عمر کے قارئین کے لیے دلچسپ اور ہمہ جہت بناتی ہے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اس سال کا ایڈیشن صرف ایک کتب میلہ نہیں، بلکہ ایک علمی، فکری اور ثقافتی تجربہ ہے، جو علمی مکالمے، لسانی تبادلے اور تعلیمی ترقی کے دروازے کھولے گا۔
فیسٹیول کا ایک اہم پہلو راج ترنگنی سمواد ہے ‘ورکشاپس اور مکالموں پر مبنی ایک خصوصی سلسلہ، جس میں کلاسیکی کشمیری متن راج ترنگنی کے تاریخی، ادبی، اور تہذیبی پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے گی۔
میلے میں قدیم شاردا رسم الخط پر قومی نمائش بھی شامل ہوگی، جب کہ پہلی بار گوجری ترجمہ ورکشاپ کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے، جس میں ہندی، اردو، ڈوگری، کشمیری اور انگریزی زبانوں میں دو لسانی کتابیں تیار کی جائیں گی ‘ جو لسانی تنوع اور شمولیت کو فروغ دینے کی ایک نمایاں کوشش ہے۔
اردو کتب میلہ درحقیقت ایک ایسا روح پرور منظر پیش کرتا ہے جہاں ہر سمت الفاظ کی خوشبو بکھری ہوتی ہے، ہر گوشے میں دانشوروں کی گفت و شنید جاری ہوتی ہے، اور ہر چہرے پر ادب سے محبت کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہاں استاد اور طالب علم، شاعر اور قاری، ناشر اور مصنف، سب ایک ہی چھت کے نیچے اردو کے فروغ کے لیے جْت جاتے ہیں۔ یہ اجتماع دراصل زبان اور سماج کے درمیان پل کا کام دیتا ہے۔
عموماً دیکھا گیا ہے کہ کتب میلے میں صرف پرانی کتابیں نہیں ملتیں، بلکہ نئی سوچ، جدید تحقیق، اور عصری مسائل پر مبنی ادب بھی سامنے آتا ہے۔ یہاں اردو کی سائنس، فلسفہ، معیشت، تاریخ اور فنونِ لطیفہ سے متعلق جدید کتب دستیاب ہوتی ہیں، جو اس بات کا اعلان ہیں کہ اردو صرف مشاعرے یا غزل کی زبان نہیں بلکہ سائنسی، فکری اور تنقیدی مباحث کی زبان بھی ہے۔
مزید برآں، ایسے میلوں میں ادبی نشستیں، مشاعرے، مکالمے اور مصنفین سے ملاقات کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں نئی نسل میں ادبی شعور اور تخلیقی اظہار کی بنیاد رکھتی ہیں۔ ان میلوں میں بچوں کی کہانیوں، خواتین کے ادب، اور نوجوانوں کی تخلیقات کو نمایاں کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اردو زبان ہر عمر اور ہر طبقے کے لیے قابلِ فخر سرمایہ رکھتی ہے۔
اردو کتب میلوں کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ اردو اشاعتی صنعت، مصنفین، اور قارئین کے درمیان فاصلے کم کرتے ہیں۔ اردو پبلشرز کو نئی مارکیٹیں ملتی ہیں، لکھاریوں کو قاری ملتے ہیں، اور قاری کو وہ ادب دستیاب ہوتا ہے جس تک عام دنوں میں رسائی ممکن نہیں ہوتی۔
ان میلوں کی سرپرستی اور وسعت کے لیے ریاستی اردو اکیڈمیوں، تعلیمی اداروں، اور حکومتی اداروں کا تعاون لازمی ہے۔ اگر اردو زبان کو زندہ رکھنا ہے تو اسے صرف نصابی کتابوں میں نہیں، بلکہ زندہ تجربات اور عوامی سرگرمیوں میں شامل کرنا ہوگا۔
این سی پی وی ایل کااردو کتب میلہ ایسی ہی ایک سرگرمی ہے ‘ ایک زندہ تجربہ، جو دل کو چھوتا ہے، ذہن کو جگاتا ہے، اور روح کو گرما دیتا ہے۔
آخر میں ہم یہی کہیں گے کہ اردو کتب میلہ صرف ایک ’تقریب‘ نہیں، بلکہ ایک فکری و تہذیبی قافلہ ہے، جو ہمیں ماضی کی عظمت، حال کی ذمہ داری اور مستقبل کی امید کے ساتھ جوڑتا ہے۔اگر اردو کو زبانِ دل، زبانِ علم اور زبانِ عمل بنانا ہے، تو ہر شہر، ہر بستی، اور ہر تعلیمی ادارے میں ایسے میلوں کی روایت کو زندہ رکھنا ہو گا۔کیونکہ جب زبان زندہ ہو، تو قوم بیدار رہتی ہے۔
امید یہی کی جانی چاہئے کہ جس طرح گزشتہ سال چنار کتب میلے کے پہلے ایڈیشن میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا ‘ امسال بھی وہ اس میں گہری دلچسپی کا ،مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف خود شرکت کریں گے بلکہ بچوں کو بھی لائیں گے تاکہ ان میں کتب بینی کا شوق‘ جو اس ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں ختم ہورہا ہے ‘ پیدا ہو جائیگا۔





