(ندائے مشرق رپورٹ)
سرینگر//
۵؍اگست ۲۰۱۹کو آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے چھ سال بعد‘ جموں کشمیر میں انفراسٹرکچر ترقی دیکھنے میں آ رہی ہے، جو اس کے معاشی اور سماجی منظرنامے کو مکمل طور پر بدل رہی ہے۔ کبھی تنازع اور تنہائی کے آئینے میں دیکھے جانے والے اس خطے کو اب ترقی اور رابطے کی ایک نئی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ برسوں سے جموں کے بجٹ الاٹمنٹ میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو ملا رہا ہے ۔جہاں۲۰۱۹۔۲۰۲۰ میں یہ۸۰ہزار۴۲۳ کروڑ روپے تھا وہیں ۲۰۲۰۔۲۰۲۱ میں یہ بڑھ کر ۹۲ہزار۳۴۱ کروڑ روپے ہو گیا ۔۲۰۲۱۔۲۰۲۲ میں یہ ایک لاکھ ۸ہزار۶۲۱ کروڑ روپے‘۲۰۲۲۔۲۰۲۳ میںایک کروڑ ۱۲ہزار۹۵۰ کروڑ روپے‘۲۰۲۳۔۲۰۲۴ میں ایک لاکھ‘۱۸ہزار۵۰۰ جبکہ ۲۰۲۴۔۲۰۲۵ میں یہ ایک لاکھ ۱۸ہزار۷۲۸ کروڑ روپے مختص کئے گئے ۔
۳۷۰ کی منسوخی کے بعد جموںکشمیر کے اپنے پہلے دورے میں وزیر اعظم نریندرا مودی نے ۷ مارچ۲۰۲۴ کو سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں ’وکشت بھارت وکشت جموں کشمیر‘ پہل کے تحت۶۴۰۰کروڑ روپے کے ۵۳ ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ اب کشمیر کے لوگ آزادی سے سانس لے رہے ہیں۔انہوں نے جموںکشمیر کے لوگوں کے دل جیتنے کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ۔
گزشتہ ۶ برسوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں تبدیلیاں رو نما ہوئیں ‘ماضی قریب میں اس کی مثال نہیں مل سکتی ہے۔سڑکوں ‘ پلوں اور ٹنلوں کا ایک جال بچھا یا جارہا ہے جو جموںکشمیر کیلئے کئی شعبوں میں نئے مواقع پید ا کررہا ہے ۔جون میں کشمیر کو ریل کے ذریعے کنیاکماری تک جوڑ دیا گیا اور ایل ایسا خواب پورا ہو جائیگا ‘ جس کا انتظار وادی کو کئی زمانوں سے تھا ۔
وزارت برائے روڈ ٹرانسپورٹ و ہائی ویز کے مطابق، پچھلے پانچ سالوں میں جموں و کشمیر میں۲۵۰۰ کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں، جو پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) اور بھارت مالا جیسے منصوبوں کے تحت مکمل ہوئی ہیں۔ سرینگر،جموںاور سرینگر لہیہ قومی ہائی ویز، جو پہلے لینڈ سلائیڈز اور خراب حالات کی وجہ سے بدنام تھے، اب چنانی،ناشیری اور سونہ مرگ زوجیلا ٹنلز جیسے آل ویدر راستوں کی وجہ سے ایک محفوظ اور تیز رفتار سفری راستہ بن چکا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا کے مطابق جموں سے سرینگر کا فاصلہ ۵ء۸ گھنٹے کے مقابلے میں کم کر کے ۵ء۴ گھنٹے کر دیا گیا ہے۔جبکہ ۵ء۱ کروڑ روپے کی لاگت سے ہائی وے اور ٹنل پروجیکٹ پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کئی اہم ادارے جیسے آئی آئی ٹی ، آئی آئی ایم ، این آئی ایف ٹی ، ایمس اور میڈیکل کالج قائم ہوئے ہیں۔
سرینگر اور جموں جیسے شہروں میں سمارٹ سٹی منصوبوں نے نکاسی آب، ٹریفک مینجمنٹ، شہری نقل و حمل اور خوبصورتی میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ جہلم ریور فرنٹ پروجیکٹ (سرینگر) اور زیر تعمیر توئی ریور فرنٹ (جموں) ماحولیاتی تحفظ اور جدید شہری منصوبہ بندی کی عمدہ مثال بنے ہیں۔
بن بجلی شعبے میں بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ رتلے (۸۵۰ میگا واٹ)، کیرو (۶۲۴ میگا واٹ) اور پکل دل (۱۰۰۰ میگا واٹ) جیسے پروجیکٹ تعمیراتی مراحل میں ہیں، جن سے جموں و کشمیر ایک سرپلس بجلی پیدا کرنے والا علاقہ بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے سندھ آبی معاہدہ معطل کرنے کے ہفتوں بعد جموں و کشمیر میں دریائے چیناب پر اپنا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ بنانے کے لیے تیار ہے۔ یہ ایک بہت بڑا ۱۸۵۶ میگاواٹ کا پن بجلی منصوبہ ہے جو پاکستان کی اجازت کے بغیر تعمیر کیا جائیگا ۔
نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) نے ساول کوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے لیے ٹینڈر کا عمل شروع کر دیا ہے۔ بدھ کو این ایچ پی سی نے اس پروجیکٹ کے لیے بین الاقوامی مسابقتی بولی (آئی سی بی) کی بنیاد پر باضابطہ طور پر بولیاں طلب کیں۔ بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ ۱۰ ستمبر ہے۔ یہ پروجیکٹ این ایچ پی سی اور جموں و کشمیر کے پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا مشترکہ منصوبہ ہے۔
سری نگر اور جموں ایئرپورٹس کو جدید سہولیات سے لیس کیا گیا ہے، جہاں نئے ٹرمینلز بین الاقوامی معیار کے مطابق بنائے گئے ہیں۔ کرگل اور راجوری ایئر اسٹرپس کو بھی اڑان اسکیم کے تحت اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، اور ہیلی کاپٹر سروسز اب گریز، کرن اور مچل جیسے دور دراز علاقوں کو ضلعی ہیڈکوارٹرز سے جوڑ رہی ہیں۔
آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی نے جموں و کشمیر کو نہ صرف آئینی طور پر بھارت سے مکمل طور پر ہم آہنگ کیا بلکہ ایک نئے دور کی ترقی کی راہیں بھی کھول دی ہیں۔ سڑکوں، ریلوے، اسپتالوں، ہائیڈرو پاور، اسکولوں اور اسمارٹ شہروں کے ذریعے اس علاقے میں ایک خاموش لیکن طاقتور انقلاب برپا ہو رہا ہے … جو عوام کے لیے امید، خوشحالی اور بہتر مستقبل کی نوید ہے۔










