نئی دہلی// راجیہ سبھا میں ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے گزشتہ 11 سال کے دور اقتدار میں جموں و کشمیر کو چھوڑ کر ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گرد حملے رک گئے ہیں۔
مسٹر نڈا نے ایوان بالا میں آپریشن سندور پر خصوصی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ 2014 سے پہلے ملک میں کئی دہشت گردانہ حملے ہوئے تھے جن میں سیکڑوں لوگ مارے گئے تھے ، لیکن 2014 میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد جموں و کشمیر کو چھوڑ کر ملک کے باقی حصوں میں دہشت گردی کے واقعات رک گئے ۔
اس سلسلے میں انہوں نے کانگریس حکومت کے دور کو اماوسیہ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران دہشت گردی کے کئی واقعات ہوئے لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ 2004 اور 2014 کے درمیان کانگریس کا دور اماوسیہ کی طرح تھا اور اس کے بعد مودی حکومت نے 2014 میں اقتدار سنبھالا اور حکومت کے آخری 11 سال کو پورنیماکہا جاسکتا ہے جس میں دہشت گردی کے واقعات رک گئے ۔
یو پی اے کے دور حکومت میں دہشت گردی کے واقعات کی تفصیل دیتے ہوئے مرکزی وزیر صحت نے کہا کہ 2005 میں جونپور میں حرکت الجہاد کے دہشت گردانہ حملے میں 14 لوگ مارے گئے تھے لیکن اس وقت کی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس کے بعد 2005 میں دہلی میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے جس میں سروجنی نگر اور پہاڑ گنج کو نشانہ بنایا گیا جس میں 67 افراد ہلاک اور 200 کے قریب لوگ زخمی ہوئے لیکن حکومت نے اس واقعہ پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک کے بعد ایک حملے ہوتے رہے ۔ 2006 میں ممبئی میں ٹرین میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 209 افراد ہلاک اور تقریباً 700 زخمی ہوئے تھے ۔ انڈین مجاہدین اور لشکر طیبہ اس میں ملوث تھے ۔ اس حملے کے بعد مرکزی حکومت نے کارروائی کے نام پر ‘جوائنٹ اینٹی ٹیررازم میکانزم’ تشکیل دیا۔ اس کی پہلی میٹنگ دو ماہ بعد ہوئی تھی جبکہ دوسری میٹنگ سات ماہ بعد ہوئی۔ اس کے بعد بھی حملے ہوتے رہے اور پاک و ہند کے درمیان تجارت اور سیاحت جاری رہی۔









