(ایجنسیز /مانیٹرینگ)
سرینگر//
جموں کشمیر حکومت نے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سری نگر میں حال ہی میں پیش آنے والے واقعے میں تحقیقات شروع کرنے کا حکم دیا ہے ۔
جموں کشمیر کے نیشنل ہیلتھ مشن کے مشن ڈائریکٹر بصیر الحق چودھری کو اس واقعے کی تحقیقات کے لئے انکوائری افسر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے ۔
واضح رہے کہ شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں کچھ روز قبل ایک ڈاکٹر پر ایک تیمار دار نے حملہ کیا تھا جس کے بعد ڈاکٹروں نے اس واقعے کے خلاف احتجاج درج کیا تھا۔انکوائری افسر سے۱۵دنوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔
محکمہ صحت اور طبی تعلیم کی طرف سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ انکوائری افیسر کو۲۳جولائی کو کالج میں پیش آنے والے امن و امان کی صورتحال سے متعلق حقائق اور حالات کا معروضی اور جامع جائزہ لینے کا کام سونپا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا’’افسر واقعے کے فوری صوتحال کا جائزہ لے گا اور اس کے بعد ہونے والی پیش رفت کے سلسلے کی چھان بین کرے گا‘‘۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ انکوائری کے دوران آپریٹنگ تھیٹرز (او ٹیز) کی بندش کے پیچھے وجوہات کا جائزہ لیا جائے گا، اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ آیا بندش قابل گریز تھی نیز فرض میں غفلت یا قائم پروٹوکول کی خلاف ورزی کے ذمہ دار کسی بھی فرد کی نشاندہی کرے گی۔
انہوں نے کہا’’انکوائری افیسر کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ داخلی شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کو بڑھانے ، انتظامی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور ادارے کے مجموعی کام کاج کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی سفارش کرے علاوہ ازیں مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے تدارک اور احتیاطی اقدامات تجویز کیے جائیں‘‘۔
ان کا کہنا ہے کہ سری نگر کے ایسوسی ایٹڈ ہسپتالوں کے ایڈمنسٹریٹر محمد اشرف حقاک کو اس معاملے میں پرزنٹنگ افسر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے ۔
اس دوران وزیربرائے صحت سکینہ اِیتو کی ہدایات پر محکمہ صحت و طبی تعلیم نے جموںکشمیر کے تمام سرکاری طبی اِداروں میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کیلئے ڈیوٹی کے دوران سفید کوٹ (ایپرن) پہننا اور ان پر واضح طور پر نام و عہدہ درج ہونا لازمی قرار دیا ہے۔
اس حوالے سے محکمہ کی طرف سے جاری ایک سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ تمام ڈاکٹروں جن میں نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) اور آیوش کے تحت تعینات ڈاکٹرز بھی شامل ہیں اور تمام پیرا میڈیکل سٹاف کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ڈیوٹی کے دوران سفید ایپرن پہنیں اور ہمیشہ اَپنے پورے نام اور عہدے کے ساتھ واضح شناختی پلیٹ لگائیں۔
سرکیولر میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام اِداروں کے سربراہان، میڈیکل سپراِنٹنڈنٹوںاور چیف میڈیکل اَفسران کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اَپنے اَپنے اِداروں میں ان احکامات پر سختی سے تعمیل کو یقینی بنائیں۔
یہ فیصلہ اس پس منظر میں لیا گیا ہے کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ مختلف سرکاری طبی اِداروں میں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف ڈیوٹی کے دوران ایپرن پہننے اور شناختی پلیٹ لگانے کے مقررہ اصولوں پر پوری طرح عمل نہیں کر رہے ہیںجس کی وجہ سے مریضوں کو طبی عملے کی شناخت کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔










