نئی دہلی//
ہندوستان اور قطر نے آج اپنے دوطرفہ تعلقات کو ’اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘کی سطح پر اپ گریڈ کیا اور باہمی تجارت کو پانچ برسوں میں دوگنا کرنے ، ہندوستان میں قطر سرمایہ کاری مرکز کھولنے اور ہندوستان اور قطر کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت شروع کرنے کا اعلان کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں ہونے والی دو طرفہ چوٹی کانفرنس میں یہ فیصلے کئے گئے ۔
دونوں ممالک نے حماس اور اسرائیل کے درمیان تنازع اور افغانستان کے مسئلے سمیت عالمی اور علاقائی جغرافیائی سیاسی امور پر بھی بات چیت کی۔
امیر قطر کے سرکاری دورے کے دوران دو معاہدوں اور پانچ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جن میں سے ایک دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بڑھانے اور دوسرا دوہرے ٹیکس سے بچنے کے حوالے سے ہے ۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (قونصلر، پاسپورٹ، ویزا اور سمندر پار ہندوستانی امور) ارون کمار چٹرجی نے میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک ساجھیداری میں توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور سیکورٹی کے شعبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے انفراسٹرکچر، بندرگاہوں، جہاز سازی، فوڈ پارکس، قابل تجدید توانائی، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے آخری بار مارچ۲۰۱۵میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ جب وزیر اعظم مودی نے فروری۲۰۲۴میں اپنا دوسرا دورہ کیا تو انہوں نے قطر کے امیر کو ہندوستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ قطر کے امیر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی آیا ہے جس میں وزیر اعظم اور وزیر خارجہ، سینئر حکام اور کاروباری رہنما شامل ہیں۔
قطر کے امیر کا آج صبح راشٹرپتی بھون میں صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ایک رسمی استقبال کیا گیا۔قطر کے امیر آج شام در جمہوریہ سے ملاقات کریں گے اور وفد کے ہمراہ امیر کے اعزاز میں صدر ضیافت بھی دیں گی ۔ حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم مودی اور امیر قطر کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے تاریخی تجارتی تعلقات، عوام سے عوام کے گہرے تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دو طرفہ تعلقات کو یاد کیا۔
چٹرجی نے کہا کہ اپنے دو طرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بڑھانے کی کوشش میں ہندوستان اور قطر نے آج اس سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی دونوں رہنماؤں کے درمیان آج ہونے والی بات چیت کے اہم موضوعات میں شامل تھے ۔ آج ہندوستان اور قطر کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً ۱۴بلین ڈالر ہے ۔ دونوں فریقوں نے اگلے ۵برسوں میں اسے دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے قطر بھی ایک اہم پارٹنر ہے ۔ قطر کے خودمختار دولت فنڈ، قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے پاس اس وقت ہندوستان میں تقریباً۵ء۱بلین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی ) ہے ۔
چٹرجی نے کہا کہ دونوں لیڈروں نے آج کئی ایسے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی ہندوستان میں سرمایہ کاری بڑھا سکتی ہے ۔
وزیراعظم نے اس دورے پر قطر کے اعلیٰ کاروباری رہنماؤں کے ایک بڑے وفد کو لانے پر امیر قطر کی ستائش کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ آج ہندوستان اور قطر کے وزرائے صنعت و تجارت کی شریک صدارت میں ایک مشترکہ بزنس فورم کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے سرکردہ صنعت کاروں، کمپنیوں اور اداروں نے بہت مفید بات چیت کی۔
چٹرجی نے کہا کہ ہندوستان اور قطر کے درمیان توانائی کے میدان میں بہت ہی متحرک ساجھیداری ہے ۔ قطر ہندوستان کے لیے توانائی کا ایک بڑا ذریعہ ہے ۔ دونوں رہنماؤں نے آج کہا کہ فروری۲۰۲۴میں قطر انرجی اور پیٹرونیٹ ایل این جی لمیٹڈ نے ۲۰۲۸سے شروع ہونے والے۲۰برسوں کے لیے قطر سے ہندوستان کو سالانہ۵ء۷ملین میٹرک ٹن ایل این جی کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے ۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی سرمایہ کاری کو تلاش کرنے سمیت توانائی کی ساجھیداری کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔










