ایجنسیز
جموں؍۳جون
کانگریس نے بدھ کے روز جموں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور بار بار امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات کے خلاف احتجاج کیا۔ پارٹی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ عام لوگوں کو درپیش معاشی مشکلات اور نوجوانوں کے خدشات دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے ورکنگ صدر رمن بھلہ نے کہا کہ مہنگائی عام خاندانوں کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک بن چکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اشیائے خوردونوش، گھریلو گیس، ایندھن، ادویات، بجلی اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ معاشی طور پر کمزور طبقہ اس کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہا ہے۔
بھلہ نے کہا کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اناج، سبزیوں اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔
کانگریسی لیڈر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قیمتوں کو مستحکم کرنے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو راحت فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے اور سماجی بہبود کی مضبوط اسکیمیں متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ گھریلو آمدنی میں اضافہ ہو اور معیشت پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
سابق وزیر یوگیش ساہنی نے کہا کہ یہ احتجاج بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی گزارنے کے اخراجات میں اضافے سے پریشان عوام کی بے چینی اور مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس عوامی مسائل کو احتجاجی مظاہروں اور ادارہ جاتی فورمز کے ذریعے مسلسل اٹھاتی رہے گی، جب تک حکومت مؤثر ریلیف اقدامات کا اعلان نہیں کرتی۔
جے کے پی سی سی کے چیف ترجمان رویندر شرما نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے سے صارفین کی خریداری کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، کاروبار کو نقصان پہنچتا ہے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔
شرما نے بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور امتحانی پرچے لیک ہونے کے مسلسل واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات نے طلبہ اور ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں میں مایوسی اور بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔
احتجاج میں کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں، پارٹی کارکنوں، خواتین، نوجوانوں اور مقامی شہریوں نے شرکت کی۔
(ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔۔۔










