ویب ڈیسک
سرینگر؍۲ جون
نیشنل کانفرنس (این سی) کی۳ جون کو منعقد ہونے والی میٹنگ کو ’’فلور ٹیسٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما نے منگل کو کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی اقتدار کھونے کی ’’وہم زدگی‘‘ نے حکمرانی کو وفاداری کی پریڈوں تک محدود کر دیا ہے۔
شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اقتدار سے محرومی کے خوف میں مبتلا ہیں اور اپنے اراکینِ اسمبلی کو ہفتہ وار وفاداری کی پریڈوں میں شرکت پر مجبور کر رہے ہیں۔
حزب اختلاف کے قائد نے کہا، ’’یہ میٹنگ محض ایک فلور ٹیسٹ ہے۔ عمر عبداللہ نے اپنے ایم ایل ایز کی وفاداری جانچنے کے لیے ہفتہ وار فلور ٹیسٹ کی رسم شروع کر دی ہے۔ پہلا ایسا امتحان صوبائی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے نام پر لیا گیا، دوسرا نائب وزیر اعلیٰ کی جانب سے دیے گئے عشائیے کی صورت میں تھا، جبکہ تیسرا کل وزیر اعلیٰ کی ایم ایل ایز کے ساتھ میٹنگ کی شکل میں ہو رہا ہے۔‘‘
این سی کی جانب سے اس بیان پر تنقید کے جواب میں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اگر کسی ہِل کونسل کے چیف ایگزیکٹو کونسلر کے عہدے تک بھی محدود کر دیے جائیں تو وہ استعفیٰ نہیں دیں گے، شرما نے کہا کہ وہ اپنے ہر لفظ پر قائم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر کا ماضی کا طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ جب تک گاڑیوں کا قافلہ اور وی آئی پی پروٹوکول برقرار رہے گا، وہ سرپنچ یا پنچ کے عہدے پر بھی مستعفی نہیں ہوں گے۔
شرما نے کہا، ’’کیا یہ حقیقت نہیں کہ عمر عبداللہ نے۲۰۲۰سے۲۰۲۴تک بار بار کہا تھا کہ وہ خود کو ذلیل کرتے ہوئے کسی مرکز کے زیر انتظام علاقے کی قانون ساز اسمبلی میں داخل نہیں ہوں گے؟ کیا یہ وہی شخص نہیں جس نے۲۰۲۴میں کہا تھا کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر کے باہر انتظار گاہ میں بیٹھ کر فائلوں پر دستخط کی درخواست نہیں کریں گے؟ پھر ایسی کیا بات ہوئی کہ انہوں نے اپنا موقف بدل لیا؟ میں کشمیر کے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ عبداللہ خاندان کا صرف ایک نظریہ ہے، اور وہ ہے اقتدار۔‘‘










