نئی دہلی//
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے منگل کو کہا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ کو اپریل تک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تین نئے فوجداری قوانین پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہئے۔
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے منگل کو وزیر اعلی عمر عبداللہ اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں جموں و کشمیر میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
عمرعبداللہ نے میٹنگ میں شرکت کی حالانکہ امن و امان کو براہ راست مرکزی حکومت سنبھالتی ہے کیونکہ سابق ریاست کو ۲۰۱۹ میں جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔
شاہ نے کہا کہ نئے قوانین کے مکمل نفاذ کیلئے ضروری ہے کہ پولیس اہلکاروں اور انتظامیہ کے رویے کو تبدیل کیا جائے اور شہریوں میں نئے قوانین کے بارے میں بیداری پیدا کی جائے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ تین نئے فوجداری قوانین کے تحت فوری انصاف کو یقینی بنانے کیلئے ٹکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جانا چاہئے۔
شاہ نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں غیر موجودگی میں ٹرائل کی شق کا استعمال کرنے کی فوری ضرورت ہے۔انہوں نے چارج شیٹ داخل کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے لئے پولیس افسران کی ذمہ داری طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں جموں و کشمیر میں پولیس، جیلوں، عدالتوں، استغاثہ اور فرانزک سے متعلق مختلف نئی دفعات کے نفاذ اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ہر پولیس اسٹیشن کو نیشنل آٹومیٹڈ فنگر پرنٹ آئیڈینٹیفکیشن سسٹم (این اے ایف آئی ایس) کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہئے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ عمرعبداللہ اور سنہا کے علاوہ مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر حکومت کے اعلی عہدیداروں نے نارتھ بلاک میں ہونے والی میٹنگ میں شرکت کی۔
بھارتیہ نیائے سنگھیتا، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنگھیتا اور بھارتیہ سکشیہ ادھینیام نے بالترتیب نوآبادیاتی دور کے انڈین پینل کوڈ، کوڈ آف کرمنل پروسیجر اور انڈین ایویڈنس ایکٹ ۱۸۷۲کی جگہ لے لی۔
نئے قوانین گزشتہ سال یکم جولائی سے نافذ العمل ہوئے تھے۔
وزیر داخلہ پہلے ہی اتر پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش اور گجرات سمیت کئی ریاستوں میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کی صورتحال کا جائزہ لے چکے ہیں۔










