’الیکٹرولائٹس پٹھوں اور اعصاب کے درست کام کرنے اور جسم میں سیال مادوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں‘
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۳جون
صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہو اور گرمی کی لہریں شدت اختیار کر جائیں تو صرف پانی پینا جسم کو مناسب طور پر ہائیڈریٹ رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوتا، کیونکہ زیادہ پسینہ آنے سے جسم سے ضروری الیکٹرولائٹس بھی خارج ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گرمی کے باعث جسم سے پانی اور اہم معدنیات کے ضیاع سے چکر آنا، سر درد، پٹھوں میں کھچاؤ اور شدید تھکن جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن اسپتال کی ایڈیشنل ڈائریکٹر برائے داخلی طب ڈاکٹر دیویا گوپال نے کہا کہ گرمیوں کے موسم میں جسم صرف پانی ہی نہیں بلکہ سوڈیم، پوٹاشیم، کیلشیم اور میگنیشیم جیسے اہم الیکٹرولائٹس بھی زیادہ پسینہ آنے کی وجہ سے کھو دیتا ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرولائٹس پٹھوں اور اعصاب کے درست کام کرنے اور جسم میں سیال مادوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’تاہم جب زیادہ پسینہ آنے کے بعد صرف پانی پیا جاتا ہے اور الیکٹرولائٹس کی کمی پوری نہیں کی جاتی تو جسم میں ان کی مقدار مزید کم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تھکن، پٹھوں میں کھچاؤ، سر درد، چکر آنا اور مسلسل پیاس جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر گوپال نے کہا کہ شدید گرمی یا زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں صرف پانی پینا جسم کو مکمل طور پر ہائیڈریٹ رکھنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق پانی کے ساتھ ساتھ الیکٹرولائٹس کا استعمال بھی ضروری ہے، جو او آر ایس ‘ ہلکے نمک والا لیموں پانی، ناریل کا پانی، لسی اور متوازن غذا کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
سیفی اسپتال کے شعبۂ ایمرجنسی میڈیکل سروسز کے سربراہ ڈاکٹر مرتضیٰ ایس بگوالا نے کہا کہ شدید گرمی کے دوران جسم میں پانی کی کمی صرف پیاس محسوس کرنے تک محدود نہیں ہوتی۔
ڈاکٹر بگولا نے کہا، ’’جب انسان بہت زیادہ پسینہ بہاتا ہے تو جسم سے پانی کے ساتھ ساتھ سوڈیم اور پوٹاشیم جیسے اہم معدنیات بھی خارج ہو جاتے ہیں۔ اگر اس کمی کا بروقت ازالہ نہ کیا جائے تو یہ جسم کے کئی اعضاء کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘
ان کے مطابق پانی کی کمی کے باعث شدید کمزوری، چکر آنا، سر درد، پٹھوں میں درد اور کھچاؤ، تھکن، توانائی کی کمی اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹر بگوالا نے کہا کہ پانی کی کمی کے باعث بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے اور صورتحال بگڑنے پر انسان بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بزرگ افراد، بچے اور ذیابیطس، دل کے امراض یا گردوں کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے پانی کی کمی کے اثرات کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ کیفیت ذہنی الجھن، ہیٹ ایکزاسشن، ہیٹ اسٹروک اور پہلے سے موجود بیماریوں کے بگڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔ الیکٹرولائٹس کا عدم توازن دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی پیدا کر سکتا ہے اور بعض اوقات دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے لگتی ہے۔
ایل ایچ ہیرانندانی اسپتال کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر برائے داخلی طب و میٹابولک فزیشن ڈاکٹر ومل پاہوجا نے کہا کہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض جیسی طبی حالتیں گرمیوں میں جسم میں پانی کی کمی کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان بیماریوں کے ساتھ استعمال ہونے والی بعض ادویات بھی جسم میں پانی اور نمکیات کے توازن کو متاثر کرتی ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر پاہوجا کے مطابق جسم میں سیال مادوں کی شدید کمی کے نتیجے میں خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جس سے جسم کے مختلف اعضاء تک خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں میں اس کے نتیجے میں اچانک بلڈ پریشر گر سکتا ہے، چکر آ سکتے ہیں، بے ہوشی طاری ہو سکتی ہے اور گرنے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اہم اعضاء تک خون کی ناکافی فراہمی گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ مزید برآں، جو مریض SGLT2 inhibitors ادویات استعمال کر رہے ہیں، ان میں شدید پانی کی کمی ایک خطرناک کیفیت ’’یوگلائسیمک ڈائیبیٹک کیٹو ایسیڈوسس‘‘ کا باعث بن سکتی ہے، جس میں خون میں شکر کی سطح معمول پر ہونے کے باوجود تیزابیت خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران صرف پانی پینے پر اکتفا نہ کریں بلکہ جسم میں الیکٹرولائٹس کی کمی پوری کرنے کے لیے مناسب غذاؤں اور مشروبات کا بھی استعمال کریں تاکہ پانی کی کمی اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے محفوظ رہا جا سکے۔(ایجنسیاں)










