احتجاج پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن ہو گا :صادق
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۳جون
نیشنل کانفرنس (این سی) پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز نئی دہلی میں جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے حق میں احتجاج کرے گی۔
پارٹی کے چیف ترجمان تنویر صادق نے بدھ کے روز یہ اعلان کیا۔
تنویر صادق نے یہا ں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ یہ فیصلہ نیشنل کانفرنس کے قانون ساز پارٹی اجلاس میں لیا گیا، جس میں پارٹی کے ارکانِ اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ترجمان اعلیٰ نے کہا، ’’اجلاس میں کئی امور زیر بحث آئے جن میں کانگریس اور حکومت سے متعلق معاملات بھی شامل تھے، لیکن سب سے اہم موضوع خصوصی حیثیت اور ریاستی درجے کی بحالی تھا۔‘‘
صادق نے کہا کہ پارٹی مانسون اجلاس کے پہلے دن دہلی میں احتجاج کرے گی۔انہوں نے کہا، ’’ہم جلد فیصلہ کریں گے کہ احتجاج کہاں کیا جائے گا۔ ہم دہلی جائیں گے اور ریاستی درجے کی بحالی اور آئینی ضمانتوں کا مطالبہ کریں گے۔‘‘
حکمران جماعت کے ترجمان اعلیٰ نے کہا کہ۲۰۱۹ کے بعد حالات میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے، تاہم ریاستی درجے کی بحالی اب بھی پارٹی کی ایک دیرینہ خواہش ہے۔انہوں نے مزید کہا، ’’اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری قیادت دہلی جا کر وہاں کے لوگوں سے بات کرے۔‘‘
صادق نے بتایا کہ اجلاس میں منشیات کے استعمال، شراب نوشی اور جموں، کشمیر، پیر پنجال اور چناب خطوں میں ترقیاتی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پوری بحث کے دوران صبر و تحمل سے شریک رہے۔
کابینہ میں توسیع کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں صادق نے کہا کہ یہ ’’معزز وزیر اعلیٰ کا اختیار‘‘ ہے اور وہ جب مناسب سمجھیں گے، یہ فیصلہ کریں گے۔انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں بشمول سنیل شرما اور سجاد لون کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹوں سے متعلق سوالات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں، ہم نے اپنا فیصلہ آپ کو بتا دیا ہے۔‘‘
دریں اثنا، بارہمولہ سے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی جاوید حسن بیگ نے بدھ کے روز کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت محض پانچ سال کے لیے نہیں بلکہ آئندہ پچیس برس تک اقتدار میں رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے قائد حزب اختلاف سنیل شرما کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ موجودہ حکومت ایک ’’ڈوبتا ہوا جہاز‘‘ ہے۔
سنیل شرما کے اس بیان کو رد کرتے ہوئے کہ حکومت جلد گر جائے گی، جاوید حسن بیگ نے کہا کہ اپوزیشن ’’خوش فہمی‘‘ کا شکار ہے اور زمینی سیاسی حقیقتوں سے کٹی ہوئی ہے۔
بیگ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’انہیں خواب دیکھنے دیں، وہ انہی خوابوں کے سہارے زندہ ہیں۔‘‘
اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے خاتمے سے متعلق بار بار دیے جانے والے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’وہ کہتے ہیں کہ عمر عبداللہ کی حکومت گرنے والی ہے اور وہ ایک ڈوبتے ہوئے جہاز کو بچا رہے ہیں۔ انہیں خواب دیکھنے دیں، وہ انہی خوابوں پر زندہ ہیں۔‘‘
جب ان سے سیاسی عدم استحکام سے متعلق اپوزیشن کے دعووں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس طویل مدت کے لیے سیاسی منظرنامے میں موجود رہے گی۔انہوں نے کہا، ’’یہ حکومت صرف پانچ سال کے لیے نہیں ہے بلکہ آئندہ۲۵ برس کے لیے ہے۔۲۵سال بعد تبدیلی آئے گی، مجھ پر یقین کیجیے۔‘‘
پارٹی اجلاس کے ایجنڈے کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے جاوید حسن بیگ نے کہا کہ اجلاس میں گزشتہ ڈیڑھ برس کی سیاسی اور معاشی کارکردگی کا جائزہ لینے اور مستقبل کے لیے ایک طویل المدتی حکمت عملی مرتب کرنے پر توجہ دی گئی۔
بیگ نے کہا، ’’ایجنڈا یہ تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں سیاسی اور معاشی محاذوں پر کیا کام ہوا، آئندہ ساڑھے تین برس میں کیا کیا جائے گا اور اگلے۲۵ برس کے لیے کس طرح کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔‘‘










