ہفتہ, اگست 1, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home مقامی خبریں

کشمیر کے خوبصورت مناظر اپنی جگہ‘ سیاحوں کو بلاخلل انٹرنیٹ خدمات بھی چاہئیں

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2022-05-12
in مقامی خبریں
A A
کشمیر کے خوبصورت مناظر اپنی جگہ‘ سیاحوں کو بلاخلل انٹرنیٹ خدمات بھی چاہئیں
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

  کھور سیکٹر میں پاکستانی مشتبہ ڈرون مار  گرایا گیا، فوج نے اپنی تحویل میں لیا

راولاکوٹ میں مظاہرین  پر فائرنگ‘۱۴ افراد ہلاک  متعدد زخمی ہونے کا دعویٰ

سرینگر///
ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب دنیا بالخصوص یورپی ممالک کے سیاح دنیا کے جھمیلوں اور شور شرابے سے نجات پانے کیلئے پرسکون جگہوں کی تلاش میں وادی کشمیر پہنچتے تھے ۔
یہ سیاح یہاں بھی لوگوں کی ہل چل اور چہل پہل سے دور شہرہ آفاق جھیل ڈل یا نگین جھیل کے ہاؤس بوٹوں کی خاموش اور پر فضا ماحول میں قیام کرکے اپنا وقت گذارتے تھے ۔
لیکن جدید ٹیکنالوجی کے دور میں سیاحوں کی ضروریات و ترجیحات میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ہے اور آج جھیل ڈل یا نگین جھیل کے ہاؤس بوٹوں میں سیاحوں کیلئے انٹرنیٹ سہولیات کی دستیابی اہم ضرورت بن گئی ہے تاکہ وہ ایک طرف اپنے عزیز و اقارب سے جڑے رہیں تو دوسری طرف دنیا کے حالات و واقعات سے بھی ہر پل آگاہ رہیں۔
جھیل ڈل میں مغل شراٹن ہاؤس بوٹ کے مالک بلال احمد بکتو کا کہنا ہے کہ آج سیاح ہاؤس بوٹ میں قدم رکھنے سے قبل انٹر نیٹ سہولیات کی دستیابی کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہاؤس بوٹ میں انٹر نیٹ سہولت دستیاب نہیں ہوگی تو بیشتر سیاح ہوٹل یا دوسری جگہ قیام پذیر ہونے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
بکتو کا کہنا تھا’’ہاؤس بوٹ میں قدم رکھتے ہیں سیاح وائی فائی پاس وارڈ مانگتے ہیں تاکہ وہ سوشل میڈیا کی وساطت سے دنیا کے ساتھ جڑ سکیں‘‘۔
جھیل ڈل اور نگین جھیل میں قریب۴۵۰ہاؤس بوٹس ہیں جن میں سے بیشتر ہاؤس بوٹوں میں انٹرنیٹ سہولیات دستیاب ہیں۔
ہاؤس بوٹ مالک نے کہا کہ آج سیاحوں کو ہاؤس بوٹس میں بھی وہ تمام سہولیات دستیاب ہونی چاہئے جو ایک ہوٹل یا ریستوران میں ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا’’ہم ہاؤس بوٹس میں سیاحوں کے لئے وہ تمام سہولیات دستیاب رکھتے ہیں جو ایک ہوٹل میں ان کے لئے ہوتی ہیں اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہمارا کام چلنا مشکل ہے ‘‘۔
بکتو کا کہنا تھا’’ہمارا خاندان قریب ایک صدی سے سیاحتی شعبے سے جڑا ہوا ہے اور ہماری روزی روٹی کا یہی واحد وسیلہ ہے ‘‘۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاؤس بوٹ میں دنیا کے گوشہ وکنار کے سیاحوں نے قیام کیا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے ۔
ہاؤس بوٹ مالک نے کہا’’ہم نے اپنی اس ہاؤس بوٹ کو سیاحوں کے جدید مطالبوں کے عین مطابق تیار رکھا ہے تاکہ کسی سیاح کو کسی قسم کی مشکل یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ‘‘۔ان کا کہنا تھا’’جب سیاح ہماری ہاؤس بوٹ میں قدم رکھتے ہیں تو ان کے لئے موثرانٹر نیٹ سہولیات کو دستیاب رکھنا ہماری ترجیح ہوتی ہے اور اس کے بعد باقی وہ تمام سہولیات سیاحوں کو دستیاب رکھی جاتی ہیں جن کی ان کو ضرورت ہوتی ہے ‘‘۔
بکتو نے کہا کہ ہاؤس بوٹ میں وائی فائی سسٹم کو دستیاب رکھنا ایک مشکل کام تھا ہم اس حوالے سے بہت فکر مند تھے ۔انہوں نے کہا’’ہاؤس بوٹ میں اس سہولت کی دستیابی کو ممکن بنانے کیلئے ہم نے ایک مواصلاتی کمپنی کے ساتھ رابطہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ کمپنی نے زیر آب تار بچھا کر ہماری اس ضرورت کو پورا کیا جس کے لئے اس کو کئی ماہ لگ گئے ۔
ہاؤس بوٹ مالک نے کہا کہ آج کے دور میں سیاحوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا ایک انتہائی کٹھن کام ہے لیکن ہم سیاحوں کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ہماری ہاؤس بوٹ جھیل ڈل میں اسی جگہ کھڑی ہے جہاں پہلے تھی۔
بکتو کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران ہمیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کورونا وبا کی وجہ سے سیاحوں کا آنا بند تھا لیکن امسال ہمارا کام چلنے لگا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم امسال ایک بہت اچھے سیاحتی سیزن کی امید کرتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ کورونا وبا کی لہر میں ٹھہراؤ آنے کے ساتھ ہی وادی کے جلمہ سیاحتی مقامات پر غیر مقامی سیاحوں کی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے ۔
شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کناروں پر واقع ایشیا کے سب سے بڑے باغ گل لالہ کے نظاروں سے امسال ریکارڈ تعداد میں سیاح لطف اندوز ہوئے ۔
وادی کے ہوٹل بھی سیاحوں سے بھرے ہوئے ہیں اور اس شعبے سے وابستہ دیگر لوگ خواہ وہ ٹورسٹ گائیڈ ہیں یا دوسرے لوگ وہ بھی خوش اور مطمئن نظر آ رہے ہیں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

اسرائیلی فورسزکی فائرنگ سے خاتون صحافی شہید

Next Post

جنگجوؤں اور اُن کے مدد گاروں کے خلاف کارروائیاںکامیاب:دفاعی ذرائع

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

اہم تنصیبات کی تصاویرجموں میں ڈرون ضبط
اہم ترین

  کھور سیکٹر میں پاکستانی مشتبہ ڈرون مار  گرایا گیا، فوج نے اپنی تحویل میں لیا

2026-08-01
’پی اور کے میں حالیہ واقعات پراسلام آباد کو جوابدہ ٹھہرایا جائے‘
اہم ترین

راولاکوٹ میں مظاہرین  پر فائرنگ‘۱۴ افراد ہلاک  متعدد زخمی ہونے کا دعویٰ

2026-07-29
امرناتھ یاترا روٹ پر سی آر پی ایف   اہلکار بننے والا اتر پردیش کا شخص گرفتار
اہم ترین

گاندربل:سڑک حادثے میں ۳۹ یاتری زخمی ‘ایل جی نے عیادت کی

2026-07-29
ایل اور سی پر سکوت:کیرن علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں شروع ہونے لگیں
اہم ترین

 سانبہ میں بین الاقوامی سرحد  کے قریب کھیت میں مشتبہ  سوراخ ملنے پر سرچ آپریشن

2026-07-16
جموں میں ووٹنگ سے قبل سکیورٹی کے سخت انتظامات
اہم ترین

راجوری میں دو مشتبہ دہشت گردوں  کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع

2026-07-15
پہلگام حملے کا’ ماسٹر مائنڈ ‘جھڑپ میں ہلاک
اہم ترین

آرمی چیف جنرل اُپیندر دویدی کی  لیہہ میں لیفٹیننٹ گورنر لداخ سے ملاقات

2026-06-27
شمالی کمان کے سربراہ‘ لیفٹیننٹ جنرل دیویدی کا راجوری میں اگلی چوکیوں کا دورہ
اہم ترین

آرمی کور کمانڈر کا راجوری کا دورہ  انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کا جائزہ

2026-06-25
امرناتھ یاترا: سی آر پی کی بالتل روٹ پر ماؤنٹین ریسکیو ٹیمیں تیار
اہم ترین

راجوری میں ’آپریشن شیروالی‘۳۱ ویں روز میں داخل

2026-06-23
Next Post
اونتی پورہ تصادم میںلشکر طیبہ کا مقامی جنگجو ہلاک:کمار

جنگجوؤں اور اُن کے مدد گاروں کے خلاف کارروائیاںکامیاب:دفاعی ذرائع

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.