(ایجنسیاں )
جموں؍ ۴ نومبر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ہیڈکوارٹر انچارج اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان ترون چگھ نے نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی کے استعفے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب عمر عبداللہ کی اپنی جماعت کے ارکانِ پارلیمان اور ارکانِ اسمبلی بھی ان کی حکومت کی اہلیت اور تجربے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے اندر بڑھتی ہوئی یہ ناراضگی عمر عبداللہ کی قیادت کی ناکامی کا واضح عکاس ہے۔
چگھ نے کہا کہ بی جے پی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ عمر عبداللہ حکومت اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، بالخصوص جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے معاملے میں۔ انتخابات کے دوران عوام سے کیے گئے وعدے اب تک پورے نہیں ہوئے اور حکومت اپنے انتخابی منشور پر عمل درآمد کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ حکومت کی ناکامیاں اب صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ نیشنل کانفرنس کے اپنے رہنما بھی بے نقاب کر رہے ہیں۔ جب کسی جماعت کے اپنے ارکانِ پارلیمان اور ارکانِ اسمبلی اپنی حکومت کی اہلیت اور کارکردگی پر سوال اٹھانے لگیں تو یہ جماعت کے اندر قیادت کے گہرے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
چگھ نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے تبدیلی، روزگار اور ترقی کی امیدوں کے ساتھ نیشنل کانفرنس کو ووٹ دیا تھا، تاہم عمر عبداللہ حکومت ان توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے۔ عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ جماعت کے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدے آخر کب پورے کیے جائیں گے۔










